ماں کے قدم Maa Ke Qadam
حکایت
ایک روز ایک شخص نے حضرت ابو اسحٰق سے ذکر کیا کہ رات کو خواب میں ، میں نے آپ کی داڑھی یا قوت وجواہر سے مرصع دیکھی ہے ۔ ابو اسحٰق فرمانے لگے ۔ تونے سچ کہا رات میں نے اپنی ماں کے قدم چومے تھے ۔ یہ اس کی برکت ہے اور پھر ایک حدیث سنائی کہ حضورﷺ فرماتے ہیں ۔ خدا تعالی نے لوح محفوظ پر یہ لکھا دیا ہے کہ ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انی انا اللہ لا الہ الا انا من رضی عنہ والداہ فانا عنہ راض ۔
( نزہۃ المجالس باب برالوالدین ص 168 ج 1 )
(1زینۃ المحافل ترجمہ نزہۃ المجالس ص 636 ج)
یعنی میں خدا ہوں میرے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں جس شخص کے والدین اس پر راضی ہوں گے ۔ میں بھی اس سے راضی ہوں ۔
سبق
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ آخر زمانہ میں عق امہ واطاع زوجتہ (مشکوۃ شریف) آدمی ماں کا نافرمان اور بیوی کا تابعدار بن جائے گا ۔ اس قسم کے لوگوں سے ماں کے قدم چومنے کی توقع عبث ہے ۔ ہاں ایسے لوگ بیویوں کے قدم ضرور چومتے ہیں ۔ ماں کے قدم چومنے کی برکت سے حضرت ابو اسحٰق کی داڑھی یا قوت و جواہر سے مرصع ہوگئی اور آج کل ماں کے قدموں سے دور رہنے کی بدولت داڑھی ہی غائب ہوگئی ۔ وہ ایک بزرگ انساں کی نیک ماں کے قدموں کی برکت تھی کہ داڑھی کے بالوں سے یاقوت و جواہر جڑ گئے اور یہ ماڈرن شوہر کی ماڈرن بیوی کے قدموں کی نحوست ہے کہ داڑھی کے بال بھی اڑ گئے ۔ میں نے ماڈرن مثنوی میں لکھا ہے کہ۔
؎
مرد ہوکر مرد کا چہرہ نہیں
کیونکہ رخ پہ ریش کا سہرہ نہیں
۔۔۔۔۔۔
(عورتوں کی حکایات ص 215/216)
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری



No comments:
Post a Comment