شب بیدار لونڈی , shab bedar bandi
ایک حکایت ابوالنور محمد بشیر صاحب اپنی کتاب ''عورتوں کی حکایات'' کے ص 205 پر لکھتے ہیں جو دل کو سرور اور قلب کو اطمینان بخشتی ہے آپ بھی اسے پڑھیں
حضرت حسن بن صالح نے اپنی ایک لونڈی دوسرے کسی شخص کے ہاتھ فروخت کردی جب رات ہوئی اور ' گھر کے سارے افراد سوگئے ،تو لونڈی نے پکار پکار کر کہنا شروع کردیا ۔ الصلوۃ الصلوۃ نماز نماز( کے لیے) اٹھو اور نماز تہجد پڑھو مگر کسی کو خیال پیدا نہ ہوا ۔صبح ہوئی تو کہنے لگی ۔کیا آپ لوگ فرض نمازوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں پڑھتے یہ کہہ کر اس نے کہا مجھ پر کرم کرو اور فسخ بیع کرکے مجھے حسن بن صالح ہی کے یہاں بھیج دو ۔چنانچہ اس نے لونڈی حسن بن صالح کو واپس کردی
( نزہۃ المجالس باب فضل الصلوۃ ص 101 ج 1)
( زینۃ المحافل ترجمہ نزھۃ الجالس ج 1 ص521)
سبق
پہلے زمانہ کی لونڈی بھی پانچ نمازوں کی پانبد اور ان کے علاوہ تہجد ونوافل بھی پڑھتی تھیں اور آج کل کی آزاد لیڈیاں بھی تہجد و نوافل تو کیا فرض نماز بھی نہیں پڑھتیں پہلی عروتوں کی راتیں یادِ رب میں گزرتی تھیں اور اب ماڈرن عورتوں کی راتیں کلب میں گزرتی ہیں ۔ انہیں رب کا منانا پسند تھا ،انہیں ناچنا وگانا پسند ہے وہ نماز پڑھ کر روتی تھیں ۔ یہ سنیما دیکھ کر سوتی ہیں ۔ ان کی زبانوں پر رہتا ہے تو ذکرِ خدا ورسول اور ان کی زبانوں پر رہتا ہے تو ڈیم فول
اس شب بیدار لونڈی پر ایسی ہزاروں بیکار لیڈیاں (لڑکیاں ) قربان ۔
بن گئیں اللہ کی جو لونڈیاں
ان پہ قربان مغربی یہ لیڈیاں
( عورتوں کی حکایات ص 205 )
۔۔۔
اور کسی نے کہا
چھوڑفلمی گانوں اور نغمات کو
یاد کر قرآن کی آیات کو
۔۔۔۔۔۔
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری


No comments:
Post a Comment