صبر ایک صاحب اور ایک رنڈی sabr 1 sahab aur 1 randi
ایک حکایت مفتی احمد یار خان نعیمی اپنی کتاب رسائل نعیمیہ، باب درس قرآن ص442/443 پرعجیب وغریب لکھتے ہیں ملاحظہ ہو
حکایت
ایک صاحب کسی رنڈی پر عاشق ہوگئے اس کی تنخواہ مقرر کردی ۔ روزانہ اسے اپنے پاس رہنے کا حکم دیا ۔کرتے یہ تھے کہ وہ سامنے بیٹھی رہتی تھی اور یہ اسے دیکھتے اور اپنا کام کرتے رہتے تھے ۔ اسی طرح عرصہ گذرگیا ۔ایک روز رنڈی بولی ۔ آپ اپنا پیسہ اور میرا وقت کیوں ضائع کرتے ہیں جبکہ مجھ سے کوئی کام نہیں لینا ہے ۔ تو مجھے اجازت دے دیجیے ۔ اس کے کہنے پر نفس نے بہت جوش مارا ۔اٹھے اور چراغ جلایا اور اس کی لو پر انگلی رکھ دی حتی کہ کھال گوشت سب جل گیا ۔پھر کہا تو جا اور اب مت آنا ۔ وہ بولی میں جاتی توہوں مگر مجھ کو یہ بتاو کہ تم مجھے کیوں بلاتے تھے اور اب کیوں بھیج رہے ہو ۔ اس نے کہا کہ مجھے عرصے سے اس نفس نے تیرے جال میں گرفتار کر رکھاتھا ۔ میں بہت جبرے اس کو روکے ہوئے تھا ۔ آج تیری اس گفتگو سے بہت ہیجان پیدا ہوا ۔ شہوانی خیالات بھڑک اٹھے تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے تو یہاں کی آگ کی تیزی دیکھ لے اگر اسے برداشت کرسکے تو دوزخ میں جانے کی ہمت کرنا ورنہ باز آ۔ جب انگلی کی چربی جل گئی تو نفس نے آواز دی کہ بس مجھ میں طاقت برداشت نہیں ۔ عذاب الٰہی سے وہ تمام جوش اور جذبے ختم ہوچکے ؎ اب تو جا اور کبھی نہ آنا ۔چونکہ یہ بات دل سے نکلی تھی اس لیے اس رنڈی کے دل پر ہی پڑی ۔ رونے لگی ۔ بولی میرا کیا بنے گا ۔ رب کو کیا منہ دکھاوں گی ، توبہ کی اور صالحہ بن گئی
صوفیا فرماتے ہیں کہ مشکل تو صبر سے آسان ہوتی ہے مگر صبر کرنا بھی تو ایک مشکل چیز ہے وہ کاہے سے آسان ہو؟ ۔ بخار کڑوی دوا سے جاتا ہے مگر وہ کڑوی دوا کیسے پیٹ میں جائے؟ ۔ فرماتے ہیں کہ صبر کو آسان کرنے والی تین چیزیں ہیں ۔ خوف ،شوق اور ذوق ۔یعنی عذاب الٰہی کا سچا خوف صبر کو آسان کردیتا ہے ۔ دیکھو جیل اور حوالات کا خوف ہم کو صدہا تکالیف پر صابر بنادیتا ہے ۔تو رب کا خوف صابر کیوں نہ بنائے گا ۔یونہی حبیب کے حاصل کرنے کا شوق یہ بھی انسان کو صابر کردیتا ہے ۔ دیکھو ! بی اے ۔ایم اے کا طالب علم کہ جب اسے اعلی مرتبے پر پہنچنے کاشوق ہوتاہے تو بڑی بڑی پر صبر کرلیتا ہے ۔ لوگ راتیں سو کر گزار تے ہیں مگر یہ کتابوں کے مطالعہ میں جب بابو یا ڈپٹی بننے کا شوق انسان کو رات بھر جگا لیتا ہے تو جنتی بننے کا شوق کیا تہجد اور فجر کے واسطے نہ جگائے گا ؟
مگر ہاں شرط یہ ہے ۔کہ شوق فقط زبانی نہ ہو دل کا ہو ۔ جو شخص زبان سے کہتا پھرے کہ مجھے بی اے کرنا ہے اور محنت نہ کرے تو جھوٹا ہے ایسے ہی جو منہ سے کہے کہ مجھے جنت کا شوق ہے اعمال اس کے خلاف کرے وہ جھوٹا دعویدار ہے ؎
کام دوزخ کے کیے جنت کے ہیں امید وار
قصر جنت تو بنا ہر پارسا کے واسطے
حیف تو سوتا رہے مسجد میں ہوتی ہو اذاں
مرغ و ماہی سب اٹھیں یاد خدا کے واسطے
رہا ذوق یعنی عشق مصطفی ﷺ اور ذوق دیدار الٰہی یہ تو سب سے اعلی درجے کی چیز ہے جو انسان سے بڑے بڑے کٹھن کام کرالیتی ہے جب عشق شیریں کاشوق فرہاد کے تیشے سے نہایت مضبوط پہاڑ توڑالیتا ہے ۔ تو کیا عشق الٰہی کا ذوق امام حسین رضی اللہ عنہ سے سر نہیں کٹواسکتا ؟۔ گھر نہیں لٹواسکتا
دوستو! شیریں والا پہاڑ نہ فرہاد نے کھودا نہ اس کے تیشے نے بلکہ اس کے عشق نے کھودا ۔ انسان کی ہرچیز کمزور ہے ۔ حتی کہ اس کی عقل بھی کمزور ۔ خود رب تعالی فرماتا ہے '' خلق الانسان ضعیفا " ۔ لیکن اگر نصیب ہوجائے تو اس کا عشق بہت قوی ہے جو فرشتوں سے نہ اٹھ سکا نہ زمین و آسمان سے رب تعالی فرماتا ہے
'' وحملھا الانسان انہ کان ظلوما جھولا"
( رسائل نعیمیہ، باب درس قرآن ص442/443 )
۔۔۔۔۔۔
ااس لیے اے انسانو! اور اے مومنو! '' استعینوا بالصبر والصلوۃ '' پرعمل کرو
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری
۔۔۔

No comments:
Post a Comment