بسم اللہ الرحمن الرحیم
Malik Saleh aur Ek Durwesh ملک صالح اور ایک درویش
حکایت
ملک صالح بادشاہ شام کا معمول تھا کہ رات کو ایک غلام کے ساتھ مسجدوں ، مقبروں اور مزاروں میں جاتا اور ہرایک کا حال معلوم کرتا۔ ایک رات موسم سرما میں گشت کرتا ہوا ایک مسجدمیں پہنچا ۔ دیکھا کہ ایک درویش برہنہ ہے ۔ اور سردی سے کانپ رہا ہے ۔ اور کہہ رہاہے کہ یا اللہ ! دنیا کے بادشاہ تیری عطا کی ہوئی نعمت کو نفس کی حرص و ہوا اور لذت میں برباد کردیتے ہیں ۔ محتاجوں ،ضعیفوں کی حالت سے بے خبر ہیں ۔اگر وہ قیامت کے دن بہشت میں گئے ۔ تو تیری عزت وجلال کی قسم ! میں وہاں قدم نہ رکھوں گا ۔
ملک صالح یہ بات سن کر آگے بڑھا اور دیناروں بھری تھیلی آگے رکھ دی ۔ اور روتے ہوئے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ درویش بہشت کے بادشاہ ہوں گے ۔آج ہم بادشاہ ہیں اور صلح کے لیے تمہارے پاس آئے ہیں ۔ کیونکہ کل تم بادشاہ ہوگے ۔ از راہ کرم اس دن ہم سے دشمنی نہ کرنا ۔ بلکہ عنایت ومہربانی سے پیش آنا ۔ میں ان بادشاہوں میں سے نہیں ہوں ۔ جو غریبوں سے منھ پھیرلیتے ہیں ۔
(تعلیم الاخلاق ص 506)
سبق
بڑے بڑے لوگوں کو محتاجوں اور غریبوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔ اور اپنی دولت سے غریب لوگوں کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا چاہیے ۔ جو لوگ دولت کے نشہ میں غرباء اور محتاجوں کا خیال نہیں رکھتے وہ بہت بڑے غافل اور ناعاقبت اندیش ہیں ۔
( سچی حکایات ج 4 ص 592)
۔۔۔۔۔۔۔
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment