بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک لڑکے کی دانائی ek ladke Ki Dana'i
حکایت
معن بن زائدہ ایک امیر شخص اور مہمان نوازی میں بڑا مشہور تھا ۔ اس کے پاس اس کی دشمن قوم کے کئی ہزار افراد اسیر کرکے لائے گئے ۔ اس نے حکم دیا کہ سب کو قتل کردو ۔ اس قوم میں سے ایک لڑکا کھڑا ہوا ۔ اور کہا ۔ اے امیر! میں پیاسا ہوں مجھے قتل تو ہوہی جانا ہے ۔ مگر مجھے پہلے پانی تو پلادو ۔ معن نے حکم دیا کہ اسے پانی پلادیا جائے ۔ اس نے پیالہ ہاتھ میں لیا ۔ اور کہا ۔ کہ اے امیر ! میرے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے اور مروت کا مقام نہیں ۔ کہ میں تو پانی پی لوں ۔ اور میری قوم پیاسی مرے ۔ آپ کی دریا دلی سے توقع ہے کہ ان کو بھی پانی پلانے کا حکم دیجیے ۔ چنانچہ سب کو پانی پلادیا گیا ۔ اب لڑکا پھر بولا کہ اے امیر! اب تو ہم سب تیرے مہمان ہوگئے ہیں ۔ اور مہمانوں کو مارنا کریموں کی شان نہیں بلکہ ان کی عزت کرنے کا حکم ہے معن لڑکے کی فصاحت و دانائی پر متعجب ہوا ۔ اور سب کو رہا کردیا ۔
( تعلیم الاخلاق ص 508)
سبق
عقل وفصاحت اور موقعہ ومحل کے مطابق گفتگو کرنے سے بڑے بڑے فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ اور خدا ترس افراد ہمیشہ لطف وکرم سے کام لیتے ہیں ۔

( سچی حکایات ج 4 ص 593)
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری
No comments:
Post a Comment