بسم اللہ الرحمن الرحیم
۔۔۔۔۔۔۔
نماز اور ابلیس Namaz Aur Iblis
ایک حکایت علامہ عبدالرحمن بن عبدالسلام الشافعی الصفوری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب '' نزھۃ المجالس '' جلد اول ( شب و روز کی نمازوں کے فضائل ) میں لکھتے ہیں
جسے آپ بھی پڑھیں اور ذہن وفکر سنواریں
۔۔۔۔۔
حکایت :۔
حضرت سمرقندی رحمہ اللہ تعالی نے بیان کیا ہے کہ جب نماز کا حکم نازل ہوا تو ابلیس چلا اٹھا اور اس نے اپنی ذریت کو جمع کیا -
عبادت گزاروں کو نماز سے دور رکھنے کی یہ اسکیم پاس کی کہ انہیں وقت پر نماز پڑھنے سے غافل رکھا جائے ، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اسے ہر طرف سے گھیرا جائے ، اور ہر طرف سے پکارا جائے ، ادھر دیکھ ، ادھر دیکھ ، اوپر دیکھ ، نیچے دیکھ یعنی اسے کسی نہ کسی کام کی طرف لگادیا جائے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا اور وقت پر نماز پڑھ لے تو اس کے نامہ اعمال میں چار صد نمازوں کا ثواب لکھا جائے گا -
پھر آگے لکھتے ہیں
مسئلہ :۔ قیام رکوع اور سجود میں طوالت افضل ہے ، اگر ریاکاری سے بھی کام لے گا - تب بھی وہ ثواب سے محروم نہیں ہوگا البتہ طوالت کا تو اسے ثواب نہیں ملے گا لیکن فرض ادا ہوجائے گا ، بعض نے کہا ریاکاری سے نماز باطل ہوگی :- -( زینۃ المحافل ترجمہ نزھۃ المجالس ج 1 ص 510 )
طویل قیام ؛ پل صراط پر امان کا باعث ، طویل سجدہ: عذاب قبر سے نجات کا ذریعہ اور جنت میں ہمیشگی کا سبب ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا وسیلہ بھی ( اور سکرات موت میں آسانی کا سبب بھی بقول بعض) اور جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ہمارے آقا ماویٰ ملجیٰ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی
سبق
نماز کو خشوع اور خضوع کے ساتھ پڑھنے پر بے شمار فضیلت کتابوں میں ہے اس لیے نماز ہمیشہ خشوع اور خضوع کے ساتھ ہی ادا کرنا چاہیے
ـــــــــــــــ
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment