Followers

Thursday, 24 November 2022

کرامت غوث اعظم چالیس گھوڑوں کی سخاوت Karamate Ghause Aazam 40 Ghoron Ki Sakhawat

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

۔۔۔

کرامت غوث اعظم  

چالیس گھوڑوں کی سخاوت

  Karamate Ghause Aazam

 40 Ghoron Ki Sakhawat 


صاحب تفریح الخاطر نے ایک واقعہ درج کرتے ہوئے لکھا کہ اقصیٰ بلاد میں سے ایک شخص نے حضرت محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی تعریف سنی تواسے آپ کی زیارت کا شوق پیدا ہوا ۔ اسی شوق میں سفر کرکے بغداد آیا تو حضرت محبوب سبحانی کے گھوڑوں کے اصطبل کو جانے والے راستہ پر پڑگیا ۔ دیکھا کہ اس میں چالیس اعلیٰ قسم کے بے نظیر گھوڑے چاندی اور سونے کے کھونٹوں سے بندھے ہوئے ہیں جن کی جھولیں اور رسی ریشم کی تھیں دل ہی دل میں خیال کیا کہ اولیاء اللہ دنیا کے طالب نہیں ہوتے اور یہ سازو سامان جو میں نے دیکھا ہے بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں اور یہ دنیا کی طلب و محبت پر دلالت کرتا ہے ۔ آپ سے بدظن ہو کر تکیہ میں نہ ٹھہرا ۔ بلکہ ایک دوسرے آدمی کے مکان میں قیام کیا تو یہ ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہوگیا ۔ اطباء نے لاعلاج قرار دے دیا ۔ پھر ایک حکیم نے کہاکہ تب صحت یاب ہوگا جبکہ اسے فلاں نسل کے چالیس گھوڑوں کے جگر کھلائے جائیں ۔ لوگوں نے کہا اس نسل کے گھوڑے حضور غوث الاعظم کے سوا اور کہیں بھی دستیاب نہ ہوں گے ۔ لوگوں نے مل کر مشورہ کیا کہ حضور غوث الاعظم کی بارگاہ میں سوال کیا جائے ۔ وہ سید الاسخیاء ہیں معلوم ہوتاہے کہ آپ کی بارگاہ سے خالی ہاتھ نہ آئیں گے ۔ لوگوں نے جاکر سوال کیا کہ ہمیں ایسی نسل کے گھوڑے عنایت فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا ! انہیں ایک گھوڑا دے دیا جائے ۔ پھر دوسرے دن آکر سوال کیا تو آپ نے فرمایا انہیں چالیس کے چالیس گھوڑے روزانہ ایک ایک کرکے دے دینا ۔ پھر وہ روزانہ آپ سے سوال کرتے تو آپ ان کو ایک گھوڑا عنایت فرمادیتے پھر اللہ تعالیٰ نے جب مریض کو شفا عطا فرمائی تو آپ کے پاس شکریہ ادا کرنے کے لیے آئے ۔ آپ نے اس شخص سے فرمایا یہ گھوڑے جو تم نے دیکھے تھے میں نے تیرے ہی لیے خریدےتھے اس لیے کہ جب تو گھر سے نکلا اور محبت و شوق سے میری طرف آنے کا ارادہ کیا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ یہاں آکر تجھے ایسی بیماری لاحق ہوگی جس کی دوا اس نسل کے 40  گھوڑوں کے جگر کے علاوہ اور کوئی شے نہیں ہے تو میں نے تیرے لیے انہیں خرید لیا اور تو جب گھوڑوں کے اصطبل کے پاس سے گزرا اور ان کے کھونٹوں اور جلوں کو دیکھا تو بدظن ہوکر دوسرے مکان میں جاکر قیام کیا ۔ پھر جو کچھ تیرے مقدر میں تھا ہوا ۔ یہ سن کر اس شخص نے اپنے خیال سے توبہ کی اور معافی کا خواستگار ہوا اور آپ کا عقیدت مند بن گیا ۔ پھر آپ نے فرمایا گھوڑوں کی کھونٹیں اور جلیں حکیم صاحب کو دے دو ۔ حکیم پہلے نصرانی تھا یہ واقعہ سن آپ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کرلیا ۔

نیست در ہر دوجہاں ملجائے من جز درگہت 
الکرم  یا   باز اشہب   ،  الکرم یا محی الدین

ترجمہ

آپ کی درگاہ والا کے سوا میرے لیے دوجہاں میں کہیں جائے پناہ نہیں ہے یا باز اشہب اور یا محی الدین مجھ پر جود وکرم فرمائیے 

( کرامات غوث اعظم ص 117 / 118 واقعہ نمبر 122)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوش و خرد سنبھال تو قلب و جگر سنبھال
دربارِ اولیاء   میں   غلط   بات   مت  نکال
(طرب بہاری)
۔۔۔










از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

No comments:

Post a Comment

امام اعظم ابوحنیفہ اور ناخن بھر مٹی Imam Azam Aur Nakhun Bhar Mitti

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  ۔۔۔۔۔۔ امام اعظم ابوحنیفہ اور ناخن بھر مٹی Imam Azam Aur Nakhun Bhar Mitti  حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اک ب...