بسم اللہ الرحمن الرحیم
قوی اور ضعیف Qawi aur Zaeef
حکایت
حضرت علامہ شیخ اسمٰعیل حقی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر روح البیان ج 2 میں اور مفتی احمد یارخان نعیمی علیہ الرحمہ اپنی کتاب تفسیر نعیمی ج 3 میں (مذکورہ آیت کے ضمن میں) ایک حکایت نقل کرتے ہیں ملاحظہ ہو ! ۔
سری سقطی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن کہا ۔ تعجب ہے اس ضعیف پر جو قوی کی مخالفت کرے ۔ دوسرے دن جب میں نماز فجر سے فارغ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خوبصورت مالدار نوجوان اپنے غلاموں کے ساتھ گھوڑے پر سوار مسجد میں آیا اور پوچھا تم میں سری سقطی کون ہیں ۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا وہ میرے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا ۔ کل تم نے کہاتھا کہ اس کمزور پہ تعجب ہے جو قوی کی مخالفت کرے اس کا مطلب کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ انسان (ابن آدم ) بہت کمزور ہے اور رب تعالیٰ قوی ۔ مگر اس کمزوری کے باوجود وہ رب تعالیٰ کی مخالفت کی ہمت کرتا ہے ۔ جوان بہت رویا اور بولا کہ کیا پروردگار مجھ جیسے ڈوبے ہوئے کی بھی دستگیری کرےگا (مجھ جیسے غریق الؑصیان کی توبہ بھی قبول فرمائے گا جب کہ میرا بال بال گناہوں میں غرق ہے ) میں نے کہا اے فرزند !رب تعالیٰ کے سوا ڈوبتوں کو نکالنے والا کون ہے ۔ وہ بولا اے سری سقطی مجھ پر لوگوں کے حقوق بہت ہیں ۔ ان سے چھٹکاراکیسے پاؤں ۔ میں نے کہا اگر تو رب تعالی کو راضی کرلے تو خدا تیرے حق والوں کو تجھ سے راضی کردے گا ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ قیامت کے دن بعض اولیاءاللہ پر اہل حقوق دعوی کریں گے فرشتے ان سے کہیں گے کہ اس اللہ کے بندے کو مت پریشان کرو تمہارے حقوق اللہ کے ذمہ کرم پر ہیں ۔ جاؤ اس سے وصول کرو ۔ جنانچہ رب تعالیٰ ان سب کو بلند درجے دے کر ولی کے حقوق معاف کرادے گا ۔ یہ سن کر جوان بہت خوش ہوا اور بولا اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے ؟ میں نے کہا متوسطین کا راستہ ،( میانہ رو لوگوں کا راستہ ) روزے ، نماز اور گناہوں سے بچنا ہے اور اولیاء اللہ کا راستہ دنیوی تعلقات کا توڑنا اور رب تعالیٰ سے علاقہ عبدیت جوڑنا ہے ۔ سالک پر لازم ہے کہ تمام گناہوں سے توبہ کرے اور اپنے دل کو مشاہدہ رب کے سوا کسی اور چیز میں مشغول نہ کرے نیستی کے دوزخ پر گذرکر ہستی کے جنت تک پہنچ سکتےہیں ؎۔۔۔۔
بہشت تن آسانی آنگاہ خوری کہ بر دوزخ نیستی بگذری
۔۔۔۔۔۔۔
( روح البیان پ 3 ج 2 ص 310/311)مترجم
اس کے بعد فرماتے ہیں
جب یہ باریک صراط طے کروگے تب بارگاہ قادر۔ بے چون تک پہنچوگے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر یا راستہ گزرنے والا اور اپنے آپ کو قبروالوں میں سے شمار کرو ، صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بدن روح کے لیے ایسا ہے ۔ جیسے میت قبر میں پہنچ کر اپنے کو بالکل مولیٰ کے سپرد کردیتی ہے رب تعالیٰ کے سوا کسی کی طرف توجہ نہیں کرتی ۔ مال، اولاد ، گھر بار، سب سے منہ موڑ کر چل دیتی ہے ۔ ایسے ہی بندہ کو لائق ہے کہ بدنی وقلبی آفتوں ، جسمانی وروحانی بلاؤں اور دنیوی جھگڑوں سے دور رہے اور بارگاہ یار کا طواف کرے تھوڑے گناہ کو بہت سمجھے ۔ سیلاب کی ابتدا قطرے سے ہے اور گناہوں کی ابتدا خطرے سے ہے ۔ اس قطرہ اور اس خطرہ سے بچو جیسے سیلاب روکنے کے لیے مضبوط دیوار بناتے ہو ۔ ایسے ہی گناہوں کا سیلاب روکنے کے لیے اپنے قلب کے آس پاس توبہ کی دیوار قائم کرو ۔ دنیا کو آخرت کا وسیلہ بناؤ اور رب کو رب سے ہی مانگو
ہمیشہ توبہ کرتے رہو ۔ توبہ گناہ کی توڑ ہے ۔ جیسے اینٹ توڑنے کے لیے بسولی ہے حق تعالیٰ اس قال کو حال بنادے یہ چیزیں ہمارے لیے مشکل ہیں مگر وماذلک علی اللہ بعزیز ۔
(تفسیر نعیمی ج 3 ص 582/ 583 )
۔۔۔۔۔
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری


No comments:
Post a Comment