بسم اللہ الرحمن الرحیم
شاہی فرمان Shahi Farman
۔۔
حکایت
خلیفہ ہارون رشید کے بیٹے مامون کے عہد میں ایک مجرم شہر سے بھاگ گیا ۔ خلیفہ نے اس کے بھائی کو پکڑ کر منگایا اور کہا کہ اپنے بھائی کو حاضر کرو ۔ ورنہ تمہیں قتل کردیا جائے گا ۔ اس نے عرض کیا کہ اے خلیفہ ! اگر تمہارا کوئی ماتحت حاکم کسی کو قتل کرنا چاہے اور تو حکم دے کہ اسے چھوڑ دو ۔ تو وہ چھوڑے گا یا نہیں ؟ مامون رشید نے کہا ہاں چھوڑ دے گا ۔ تو میں تمہارے سامنے اس بڑے بادشاہ کا حکم پیش کرتا ہوں ۔ جس کی عنایت سے تو حاکم بنا ہے ۔ کہ تو مجھے رہا کردے ۔ مامون نے کہا ۔ وہ حکم مجھے سناؤ ۔ کہا وہ اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ '' لا تزروازرۃ وزر اخریٰ '' یعنی'' کسی کو دوسرے کے گنہ کے بدلے نہ پکڑو '' ۔
مامون یہ سن کر بڑا متاثر ہوا ۔ اور روتے ہوئے حکم دیا کہ اسے چھوڑ دو ؟ اس نے محکم اور اٹک حکم پیش کردیا ہے
(تعلیم الاخلاق ص 483)
سبق
بڑے سے بڑا حاکم بھی ہوتو اسے قرآن پاک کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کردینا چاہئے اور یہ کہ بے گناہوں کو کبھی پکڑنا اور ستانا نہیں چاہیے ۔
( سچی حکایات ج 4 ص 591)
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment