بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرات صحابہ کرام اور حضرت جابر کی خادمہ Sahab e Kiram Aur Hazrat e Jabir Ki Khadima رضی اللہ تعالیٰ عنہم
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ اپنی کتاب " تفسیر نعیمی '' میں ایک واقعہ مثنوی شریف سے نقل کرتے ہیں جسے پڑھ کر آپ کا دل بےحد خوش ہوگا اور آپ کو کافی لطف ومزہ بھی آئے گا
۔۔۔۔
حکایت
مثنوی شریف میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں صحابہ کرام کی دعوت تھی ، مہمان بیٹھ گئے ، کپڑے کا دسترخوان بچھایا گیا جو میلا تھا ، آپ نے خادمہ سے حکم دیا کہ دستر خوان صاف کرلاؤ ، خادمہ نے اسے بھڑکتے تندور میں ڈال دیا ، لوگ حیران ہوئے ،اور منتظر تھے کہ کپڑا جلے اور شعلے اٹھے ، مگر حاضرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی ، جب ان کی آنکھوں نے یہ دیکھا کہ دستر خوان سلامت نکال لیا ، میل جل گیاتھا ، مگر اس کے تار(دھاگے وغیرہ) جلنا تو کیا گرم بھی نہ ہوئے تھے ، حیرت سے سوال کرنے لگے ؎ سب
قوم گفتند اے صحابی رسول
چوں نسوزید ومنقح گشت نیز
اے صحابی رسول ! یہ کپڑا آگ میں جلا کیوں نہیں ؟ اور بجائے جلنے کے صاف کیسے ہوگیا ، آپ نے جواب دیا ۔ شعر
گفت روزے مصطفیٰ دست ودہاں
بس بمالید اندر ایں دستار خواں
کہ ایک روز میرے یہاں حضور سید عالم ﷺ کی دعوت تھی ، یہی دستر خوان بچھایا گیا تھا ، سرکار نے اس سے اپنا ہاتھ اور منہ شریف پونچھ لیا تھا (صاف کرلیا تھا) ، اس نور سے قرب کے باعث اس میں نار اثر نہیں کرتی مولانا فرماتے ہیں ؎ کہ
اے دلِ ترسندہ از نارو عذاب
باچنیں دست و دہن کن انتساب
اے دل اگر تجھے بھی دوزخ کی آگ کا خوف ہے تو ان ہاتھوں اورلبوں سے وابستہ ہوجا، ایمان ایک بیش قیمت موتی ہے ، اس کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط قلعہ چاہیے اور سرکاری پہرہ ، شریعت محمدیہ مضبوط حفاظتی قلعہ ہے اور حضرات اولیائےعظام وعلماے کرام اس کا حفاظتی دستہ ۔۔۔
( تفسیر نعیمی ج 4 ص 101 )
۔۔۔۔۔
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment