بسم اللہ الرحمن الرحیم
Ek Shair aur Purani auraten ایک شاعر اور پرانی عورتیں
مولانا ابوالنور محمد بشیر صاحب علیہ الرحمہ اپنی کتاب'' عورتوں کی حکایات ''میں قدیم زمانے کی عورتوں کی دانائی کے بارے میں یوں توکئی واقعہ لکھے ہوئے ہیں ۔ پر میں ایک واقعہ (کتاب الاذکیاء کے حوالے سے لکھا ہوا) آپ کے سامنے پیش کر رہاہوں
پہلے عربی کا یہ دونوں شعر پڑھ لیں
قال له
إن النساء شياطين ٌ خُلقن لنا
نعوذ بالله من شرّ الشياطينِ
رد عليه
ويحك
إن النساء رياحينٌ خُلقن لنا
وكلنا يشتهي شمَّ الرياحينِ
حکایت
عورتیں
عتبی نے ذکر کیا ۔کہ ایک شاعر کا عورتوں پر گزر ہوا اور اس کو ان کی کچھ عجیب سی شان معلوم ہوئی تو اس نے کہنا شروع کردیا ۔ کہ ؎ ۔۔۔
إن النساء شياطين ٌ خُلقن لنا
نعوذ بالله من شرّ الشياطينِ
یعنی عورتیں ہمارے لیے شیطان پیدا کی گئی ہیں ۔ ہم شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ ان عورتوں میں سے ایک نے اس کو جواب دیا کہ ؎ ۔۔۔
إن النساء رياحين خُلقن لکم
وكلکم تشتھوا شمَّ الرياحينِ
یعنی عورتیں تمہارے لیے گلدستہ پیدا کی گئی ہیں اور تم سب ہی پھولوں کے سونگھنے کی خواہش رکھتے ہو ۔
(کتاب الاذکیاء لامام ابن جوزی ص 435)
سبق
عورتیں مرد کے لیے واقعی گلدستہ ہیں ۔ بشرطیکہ ان میں حیاء ہو ۔ بوئے وفا ہو ۔ اور اگر ان میں یہ رنگ وبو نہیں ۔ اور وہ گلدان میں نظر نہ آئیں تو پھر وہ واقعی بقول عتبی شیطان ہیں اور ایسی مادر پدر آزاد ۔ اور عریاں و بے حجاب عورتوں سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ؎۔۔۔
شرم سے محروم جس عورت کی ہوجائے نگاہ
اس کے شر سے مانگیے گا اپنے اللہ سے پناہ
( عورتوں کی حکایات ص 269/270)
۔۔۔۔۔۔۔۔
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری


No comments:
Post a Comment