بسم اللہ الرحمن الرحیم
--ــــــــــــــــــ--
Ghause-Azam-Ke-Halqa-e-Dars-Men-Shamoliat-Ka-Faidah# غوث اعظم کے حلقہ درس میں شمولیت کا فائدہ
شہزادہ داراشکوہ نے اپنی کتاب سفینۃ الاولیاء ص 70 پر لکھا ہے کہ
غوث الثقلین نے فرمایا ہے کہ جس کسی کو میرے حلقئہ درس میں شمولیت کا اتفاق ہوا ہے یا جس نے میری زیارت کی ہے تو قبر کے فشار اور قیامت کے عذاب میں اس کے لیے کمی کردی جائے گی -۔
روایات میں آیا ہے کہ ہمدان سے ایک مشتاق زیارت غوث اعظم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے یہ عرض کیا کہ حضرت ! میرے والد ماجد اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ، انہیں میں نے خواب میں دیکھا تو انہوں نے مجھے یہ اطلاع دی کہ قبر میں مجھ پر عذاب ہو رہا ہے اور یہ کہ تم غوث الاعظم کے پاس جاکر دعا کی درخواست کرو ۔ آپ نے دریافت فرمایا ، کیا وہ ہمارے حلقئہ درس میں شامل ہوا ہے ؟، جواب میں اس شخص نے کہا کہ شامل تو ہوا ہے ، اس پر آپ نے سکوت اختیار کیا ، دوسرے دن وہ شخص پھر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ رات کے خواب میں ، میں نے اپنے والد محترم کو بہت ہشاش بشاش دیکھا ہے وہ سبز لباس پہنے ہوئے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ عذاب قبر مجھ سے دور کردیا گیا ہے یہ پوشاک جو میں نے پہنی ہوئی ہے شیخ کے صدقے میں مجھے مرحمت کی گئی ہے تجھے چاہیے کہ تو ہمیشہ شیخ کی خدمت میں حاضر باش رہا کر وہ آنکھیں بڑی خوش نصیب ہیں جنہیں حضور کے دیدار کی سعادت حاصل ہوئی ہے وہ کان کتنے مبارک ہیں جن میں آپ کی آواز کی بھنک پڑی ہے اور وہ شخص جس نے آپ کے حلقہ درس میں شمولیت کی وہ بھی بڑا خوش نصیب ہے ۔
( سفینۃ الاولیاء ص 70 از شہزادہ داراشکوہ مترجم )
اللہ اللہ ــــ-
ذرا دیکھیں! تو سہی !غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے اس کی مدد فرمائیں جو کہ قبر کے اندر عذاب خداوندی میں گرفتار تھا اس نے جب اپنے بیٹے کے ذریعہ غوث اعظم کی بارگاہ میں عریضہ پیش کیا ہےتو اللہ رب العزت کی عطا سے (غوث اعظم نے مدد فرمائی ہےاورغوث اعظم کے صدقے میں عذاب دور کردیاگیا ہے)۔
یہ تو میرے غیب داں نبی ﷺ کے غلاموں کے غلام اوران ک امتی کے تصرف و اختیار کا معاملہ ہے اور اس امت کے ولی کا یہ حال ہے تو جو پوری کائنات کے لیے رحمت اور نبیوں کا سردار ہو، بے مثل و بے مثال ہو ان کے تصرفات و اختیارات کا عالم کیا ہوگا ؎۔
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا
نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
الٹے ہی چال چلتے ہیں دیوانگانِ عشق
آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کے لیے
---------
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment