بسم اللہ الرحمن الرحیم
۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور عابدین Hazrate Isa Alaihis Salam Aur Abidin
۔۔۔
حکایت:۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام عابدین کی ایک جماعت پر گزرے ، جن کے بدن مشقت عبادت کی وجہ سے کمزور تھے اور چہرے پیلے ، فرمایا تم عبادت سے کیا چاہتے ہو ، وہ بولے ، عذاب الٰہی سے پناہ ، فرمایا رب تعالیٰ تمہیں اس سے پناہ دے ، دوسری جماعت پر گزرے ، جن میں یہی آثار عبادت تھے ، فرمایا ، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ بولے ، جنت ورحمت ، فرمایا خدائے تعالیٰ تمہیں نصیب کرے ، تیسری جماعت پر گزرے ، جن پر آثار عبادت پہلوں سے زیادہ تھے ، پوچھا تم کیوں یہ مشقتیں کر رہے ہو ؟ وہ بولے ، اس لیے کہ ہم ہیں بندے ، وہ ہے رب ، بندے کا حق ہے مولیٰ کو راضی کرنا ، ہم صرف اس کی رضا چاہتے ہیں ، نہ جہنم سے پناہ ، نہ جنت کا حصول ، آپ نے فرمایا کہ مخلص عابد تم ہی ہو ، حافظ فرماتے ہیں ؎۔
تو بندگی چو گدایاں بشرط مزد مکن
کہ خواجہ خود روش بندہ پروری داند
یعنی رب تعالیٰ کی عبادت کرو ، مزدوری نہ کرو ، رب تعالیٰ سے دعائیں کرو ، اسے رائے نہ دو ، اس نے تم جیسے کروڑوں پالے ہیں ، اسے بندہ پروری خوب آتی ہے ، سر کا قبلہ بیت اللہ دل کا قبلہ رضاء اللہ ہونا چاہیے ، جب ان دوقبلوں کا اجتماع ہوگا ، تو عبادت مجمع قبلتین ہوگی ، اور وہ بندہ مجمع بحرین ہوگا ، اللہ تعالیٰ اس قال کو حال بنائے ، اور ایسی جامع عبادت نصیب کرے :۔
( تفسیر نعیمی ج 4 پ 4 ص 282/283 )
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment