بسم اللہ الرحمن الرحیم
۔۔۔۔
ریا کاری کا انجام Riya Kari Ka Anjam
حکایت :۔
حضرت منصور بن عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میرا ایک دینی بھائی تھا اسے میرے ساتھ خوش عقیدت تھی ۔ دُکھ سُکھ کا ساتھی کثیر العبادہ تہجد گزار اور رب تعالیٰ کے خوف سے زارو قطار رونے والا تھا ۔ چند روز ہوئے وہ میرے پاس نہ آیا ، میں نے پوچھا تو لوگوں نے کہا وہ گھر میں عرصہ سے بیمار پڑا ہے میں اس کی طبع پُرسی کے لیے حاضر ہوا ۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو اس کی لڑکی باہر آئی اور مجھے وہاں لے گئی ۔ میں نے دیکھا گھر کے وسط میں بستر مرگ پر پڑا ہے لیکن اس کا چہرہ سخت سیاہ ہوگیا ہے آنکھیں زرد لب خشک ہوگئے ہیں میں نے کہا کلمہ لاالہ الا اللہ کی کثرت کیجیے میرے کہنے پر آنکھ کھولی اور مجھے گھور کر دیکھنے لگا ۔ میں نے کہا بھائی اگر تم یہ کلمہ نہ پڑھوگے تو میں تجھے نہلاؤں گا نہ کفناؤں گا اور نہ تیری نماز جنازہ پڑھوں گا ۔ اس نے سن کر کہا بھائی منصور مجھ سے یہ کلمہ پڑھا نہیں جاتا ۔ میرے لیے کلمہ شریف کے آگے پردہ لٹکادیا گیا ہے ۔ میں نے کہا لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم تیری نمازاور روزہ اور تہجد اور شب بیداری کہاں گئے ۔ اس نے کہا بھائی در اصل میری وہ تمام عبادت بر ریاء تھی ۔ وہ عبادت صرف اس نیت پر کی جاتی کہ لوگ مجھے بہت بڑا نیک کہیں ورنہ جب میں تنہائی میں ہوتا تو دروازہ بند کرکے ایسے فاحش اور برے گناہ کرتا کہ پناہ بخدا ؎۔
در آوازہ خواہی در اقلیم فاحش بروں حلہ کن گودردل حشو باش
ترجمہ:۔
اگر تم شہرت چاہتے ہو تو باہر سے لباس اچھا ہو اگرچہ اندر سے بیکار ہو ۔
( تفسیر روح البیان ج 2 پ 4 ص 55/ 56 مترجم حکایت )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ غنی
اے بھائیو!۔دیکھا آپ نے کتنا خطرناک انجام ہے دکھا وا اور ریاکاری کا
-----
اللہ رب العزت ہم سب کو خلوص کے ساتھ عبادت اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے
دکھاوا اور ریا کاری سے بچائے اور ہم جو بھی کام کریں اس کی رضا کی خاطر کریں
آمین
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری


👌👌👌👌👌
ReplyDelete