بسم اللہ الرحمن الرحیم
با حیا عورت Ba Haya Aurat
حکایت
حضور ﷺ کے زمانہ میں ایک جاہل عورت بڑی بد زبان تھی مردوں سے جھگڑتی رہتی اور بہت بے حیائی کی باتیں کیا کرتی تھی ، ایک روز وہ حضور ﷺ کے پاس سے گذری جبکہ حضور ﷺ کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! مجھے بھی اپنے کھانے سے کچھ عطا فرماییے تاکہ میں آپ کا تبرک کھاؤں ۔ لیکن یا رسول اللہ آپ کے کھانے کا جو لقمہ آپ کے منہ میں ہو ، وہ مجھے دیجیے ۔ چنانچہ حضور ﷺنے اپنے منہ سے لقمہ نکال کر اسے دیا جسے وہ کھائی ۔ جس کا اثر یہ ہواکہ اس عورت میں اتنی شرم وحیا پیدا ہوگئی کہ مرتے دم تک پھر اسے کسی سے لڑتے جھگڑتے یا بد زبانی کرتے نہیں دیکھا گیا ۔
( حجۃ اللہ علی العالمین ص 436)
سبق
یہ حضور ﷺ کے لعاب دہن شریف کی برکت ہے آپ کے لعاب آمیز لقمہ کھانے سے بے حیا عورت باحیا عورت بن گئی ، اور اس کی ساری جہالت و بد زبانی دور ہوگئی ۔ ایک آج کل کے بعض منحوس لوگ ایسے بھی ہیں کہ نو مولود بچے کو صرف اپنی انگلی سے شہد کی گھٹی بھی دیں تو وہ بچہ بڑا ہوکر بد زبان اور بے حیا بن جا تا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہو اکہ حضور ﷺ سراپا نفاست و طہارت تھے ۔ حضور کے خدام آپ کے منہ مبارک کی چیز کو انتہائی شوق سے کھالیتے تھے ۔ آج کل کا کوئی بڑے سے بڑا صاف ستھرا شخص بھی کیوں نہ ہو ۔ اس کے منہ کی چیز کھانے سے گھن آتی ہے ۔
؎
جس سے کھاری کنوئیں شیرہؑ جاں بنے
اس زلال حلاوت پہ لاکھوں سلام
(عورتوں کی حکایات ص 168/169)
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment