حکایت :۔
چنانچہ ایک حکایت ہے ۔کہ ایک بادشاہ نے دیکھا ۔کہ ایک غریب آدمی جو بڑا صحت مند اور تندرست تھا ۔اور چہرہ اس کا سیب کی مانند سرخ تھا ۔بڑے مزے سے فرش زمین پر گہری نیند سو رہا ہے ۔بادشاہ نے اس کی قابل رشک صحت دیکھی ۔تو اسے جگا کر پوچھا ۔کہ تم کیا کھاتے ہو؟ اس مزدور نے جواب دیا ۔کہ میں ہر روز بھُنے ہوئے مرغ سے کھانا کھاتا ہوں ۔بادشاہ نے حیران ہوکر پوچھا ۔کہ ایک غریب آدمی ہوکر ہر روز بھنے ہوئے مرغ سے کھانا کیسے کھاتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا ۔کہ بات در اصل یہ ہے کہ مجھے جب خوب بھوک لگتی ہے ۔تو میں اس وقت کھانا کھانے بیٹھتا ہوں اور شدت بھوک کی وجہ سے نمک مرچ بھی مجھے بھُنے ہوئے مرغ کا مزہ دے جاتے ہیں
مگر جن لوگوں کا کام یہ ہے کہ ہر وقت کھاتے ہی رہیں ۔تو بار بار کے کھانے سے ان کی بھوک مرجاتی ہے ۔اور ان کے لیے مرغ مسلم میں بھی کوئی لذت باقی نہیں رہتی ۔بادشاہ نے کہا ۔بالکل ٹھیک ہے ۔واقعی ہم لوگ باوجود سب کچھ پانے کے ان کی لذتوں سے محروم ہیں ایسے ہی ایک محرومِ راحت امیر کی طرف سے یہ شعر کہا گیا ہے کہ ؎
دل میں ہے سرمایئہ کونین راحت کے سوا
دونوں عالم ہیں مِرے قبضے میں قسمت کے سوا
میرے بھائیو! امراء کو دیکھ کر ہرگز کوئی رشک نہ کرنا ۔ اس لیے کہ اس طبقہ میں ؎
آہ تجھ سے کیا بتاوں کتنے سینے ہیں فگار
زندگی میں دو گھڑی آرام پانے کے لیے
(خطبات ج 1 ص 271)
ناقل
محمد کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment