تین لونڈیاں
بھائیو! پرانے زمانے کی تو لونڈیاں بھی قرآن دان تھیں چنانچہ مامون رشید کو ایک مرتبہ ایک لونڈی کی ضرورت پیش آئی تو اس نے اعلان کیا ۔ تو ا س کی خدمت میں تین لونڈیاں آئیں ۔اور تینوں سامنے کھڑی ہوگئیں ۔بادشاہ نے دیکھا تو کہا مجھے تو ایک درکار ہے ۔اور تم تین ہو ۔اچھا میں تم تینوں میں سے ایک کا انتخاب کرلیتاہوں ۔ تینوں لونڈیاں سامنے ایک صف میں کھڑی تھیں ۔ بادشاہ جب انتخاب کے لیے اٹھا ۔ تو پہلی بولی ۔
والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار
پہلی نے جب یہ آیت پڑھی ۔ تو دوسری جو وسط میں کھڑی تھی بولی ۔
وکذٰلک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس ۔
تیسری جو سب سے آخری میں کھڑی تھی ۔بولی ۔
وللاٰخرۃ خیرلک من الاولیٰ ۔
مامون رشید تینوں پر بڑا خوش ہوا ۔اور تینوں کو خرید لیا ۔(لولوءالشرع ص49)
دیکھا میرے بھائیو! اس کا نام ہے قابلیت ۔قرآن کو جاننا ہی دراصل علم وقابلیت ہے ۔ اور اگر قرآن (قرآن پڑھنا نہیں آتا ) کا کچھ پتہ ہی نہیں ۔ پھر کیا جو دنیوی باتوں کے عالم وماہر ہوگئے ۔ایسے افراد قابل کہلانے کے ہرگز قابل نہیں ۔
(خطبات ج 1 ص294/295)
ناقل
محمد کلیم الدین مرکزی طرب بہاری

No comments:
Post a Comment