Followers

Monday, 21 November 2022

Hikayat Hazrate Rabie rahmatullah alaih ki حکایت حضرت ربیع رحمہ اللہ کی

 بسم اللہ الرحمن الرحیم


Hikayat Hazrate Rabie rahmatullah alaih ki حکایت حضرت ربیع رحمہ اللہ کی 

...

  مفسر قرآن حضرت علامہ شیخ اسمٰعیل حقی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر( روح البیان ج 2 پ 4 ص 6/7 ) پر اس درج ذیل  آیت کے ضمن میں ایک حکایت نقل فرماتے ہیں   '' لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ  وَ  مَا  تُنْفِقُوْا  مِنْ  شَیْءٍ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  بِهٖ  عَلِیْمٌ(۹۲)  ''( ترجمہ : تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے  ) ۔ جو بڑاہی عجیب وغریب واقعہ ہے 

ملاحظہ ہو! ۔۔ 

حضرت ربیع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر  فالج گرا ۔ جب آپ کے دروازے پر سائل دستک دیتا تو آپ اپنی اہلیہ سے فرماتےکہ اسے گڑ دیجیے اس لیے کہ آپ کی محبوب غذا گڑ تھی ایک دفعہ بیماری نے طول پکڑا عرصہ تک آپ اس مرض میں مبتلا رہے  آپ کے جی میں مرغی کے گوشت کی خواہش پیدا ہوئی ۔ چالیس روز تک آپ اپنے نفس سے لڑتے رہے وہ مرغی کا گوشت مانگتا آپ اس کے خلاف کرتے ۔ ایک دن آپ نے اپنی  اہلیہ سے فرمایا کہ چالیس دن ہوگئے کہ میرا نفس مجھ سے مرغی کا گوشت مانگتا ہے لیکن میں بضد ہوں ۔ آخر یہ بھی نفس ہے  یہ میری ایک بھی نہیں مانتا اب کیا کیا جائے ۔ بی بی صاحبہ نے عرض کی اس میں کونسا حرج ہے جب آپ کے لیے مرغی کا گوشت کھانا حلال ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے حلال سے منہ موڑنا کون سی بہتری ہے آپ نے رضا کا اظہار کیا تو بی بی صاحبہ نے بازار سے مرغی منگواکر اسے بہترین طریقہ سے پکا کر حضرت ربیع کی خدمت میں پیش کی تو باہر سے سائل نے صدا لگائی کہ اے خدا تعالیٰ کے بندو! اس کے لیے کچھ دو حضرت ربیع نے فرمایا کہ میرا یہی دسترخوان اس فقیر کے حوالےکردو ۔ عرض کی گئی کہ آپ عرصہ سے بھوکے اور بیمار بھی ہیں ۔ اور اس میں آپ کی صحت وعافیت کی امید بھی ہے ہم اس فقیر کو اس دستر خوان کے کھانے کی قیمت پیش کردیتے ہیں اس سے وہ راضی بھی ہوجائے گا ۔ آپ نے فرمایا  اس کی قیمت لے آؤ ۔ بی بی صاحبہ نے دسترخوان کے کھانے کی قیمت لائیں ۔ آپ نے فرمایا اب یہ کھانا اور یہ رقم اس صدا لگانے والے گدا کو دے دو ۔ ناچار بی بی کو دینا پڑا ۔

سبق: سبحان اللہ یہ تھی اللہ والوں کی بلند شان  ؎ ۔
باحساں آسودہ کردن دے         بہ از الف رکعت بہر منزلے
ترجمہ : کسی دل کو احسان سے خوش کرنا ہر منزل پہ ہزار رکعت ادا کرنے سے بہتر ہے ۔
کسی دوسرے شاعر نے کہا ؎۔
دل بدست آور کہ حج اکبر است         از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است 
کعبہ بنیاد خلیل آزر است                 دل نظر گاہ جلیل اکبر است 
ترجمہ: دل خوش رکھ کہ یہی حج اکبر ہے کیونکہ ہزار کعبے سے ایک دل بہتر ہے کعبہ خلیل کی بنیاد ہے اور دل اللہ تعالیٰ کی نظر کرم کی جگہ ہے 

اسی لیے یہ نکتہ بھی یاد رکھیں 
کہ جب نیکی کو محبوب ترین شئے کے خرچ کیے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا تو پھر نیکی والے کو کیسے  حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ جب بندہ حظوظ نفسانیہ کو اپنا مقصد  سمجھے ۔ (نفسانی خواہشات ، حظوظ۔ مطلب لذتیں )

تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے؟ 

( روح البیان ج 2 پ 4 ص 6/7 مترجم )



از

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

No comments:

Post a Comment

امام اعظم ابوحنیفہ اور ناخن بھر مٹی Imam Azam Aur Nakhun Bhar Mitti

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  ۔۔۔۔۔۔ امام اعظم ابوحنیفہ اور ناخن بھر مٹی Imam Azam Aur Nakhun Bhar Mitti  حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اک ب...