Followers

Tuesday, 29 November 2022

Be Namazi Ki Nahusat Aur Uski Wajah Se Tabahi بے نمازی کی نحوست اور اس کی وجہ سے تباہی

 بسم اللہ الرحمن الرحیم


Be Namazi Ki Nahusat Aur Uski Wajah Se Tabahi بے نمازی کی نحوست اور اس کی وجہ سے تباہی 


حکایت :۔ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک گاؤں میں جانا ہوا ، جہاں بکثرت درخت تھے ، نہریں جاری تھیں ، لوگ بڑے خوشحال اور مہمان نواز تھے ، آپ کا بڑا خیر مقدم کیا ، خوب خدمت انجام دی ، ان کی اس قدر فرماں برداری اور کشادگی پر بڑے متعجب ہوئے ، پھر آپ کا تین سال بعد وہیں جانا ہوا تو دیکھا درخت خشک اور نہریں بند پڑی ہیں ،گاؤں اجڑ چکا ہے ! آپ حیران تھے کہ جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور بیان کیا ! اے روح اللہ یہاں سے ایک بے نمازی کا گزر ہوا جس نے ان چشموں سے منہ دھویا تھا اس کی نحوست کا اثر ہے کہ درخت مرجھا گئے نہریں خشک ہوئیں اورگاؤں ویران ہوگیا ! اے عیسیٰ علیہ السلام جب نماز کا چھوڑنا دین کی ویرانی کا باعث ہے تو وہ دنیا کی تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے !

 (زینۃ  المحافل ترجمہ نزھۃ المجالس ج 1 ص 493)





۔۔۔۔

 سبق

اس واقعہ سے پتا چلا کہ نماز کبھی بھی نہیں چھوڑنی چاہیے سفر ہو یا حضر، کہ نماز چھوڑنا بہت برا عمل ہے نماز چھوڑنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا قہر اور عذاب نازل ہوا کرتا ہے 
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو مکمل دینداری کے ساتھ ساتھ پکا نمازی بھی بنادے آمین 

۔۔۔۔
از
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

 

 


Be Namazi Ki Nahusat بے نمازی کی نحوست

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

Be Namazi Ki Nahusat Ya Nuhusat بے نمازی کی نحوست اور اس کی وجہ سے تباہی 

....

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عظمت :۔ حضرت نیشاپوری رحمہ اللہ تعالیٰ کتاب النزھۃ میں فرماتے ہیں کہ اسلاف میں کسی نے سمندری سفر کیا دیکھا مچھلیاں ایک دوسری کو کھا رہی ہیں انہیں گمان ہواکہ سمندر میں قحط پڑچکا ہے اس پر ہاتف نے آواز دی یہاں سے گزرے ہوئے ایک بے نمازی نے پانی پیا مگر کڑوا ہونے کے باعث اس نے سمندر میں ہی پھینک دیا جس کی نحوست کے باعث یہ قحط سے دوچار ہیں !

۔۔۔۔۔

(زینۃ المحافل ترجمہ  نزھۃ المجالس ج 1 ص 493)

۔۔۔۔۔۔







اللہ غنی ، اللہ غنی ۔ ۔ ۔ 

ذرا دیکھیں تو سہی بے نمازی کی وجہ سے مچھلیوں کو قحط کا سامنا کرنا پڑا بات صرف بے نمازی کے پانی پی کر اس میں تھوکنے کی ہے، پھر جہاں وہ رہتا ہے اس کے ارد گرد رہنے والوں کا حال کیا ہوگا ۔ اور خود اس کا حال ابھی اور بعد مردن کے کیا ہوگا ؟

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نمازاور دیگر فرائض و واجبات کی پابندی کرنے کی توفیق بخشے آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔

از 
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Monday, 28 November 2022

نماز اور ابلیس Namaz Aur Iblis

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

۔۔۔۔۔۔۔

نماز اور ابلیس  Namaz Aur Iblis 

ایک حکایت علامہ عبدالرحمن بن عبدالسلام الشافعی الصفوری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب '' نزھۃ المجالس '' جلد اول ( شب و روز کی نمازوں کے فضائل ) میں لکھتے ہیں 

جسے آپ بھی پڑھیں  اور ذہن وفکر  سنواریں 

۔۔۔۔۔

حکایت :۔

حضرت سمرقندی رحمہ اللہ تعالی نے بیان کیا ہے کہ جب نماز کا حکم نازل ہوا تو ابلیس چلا اٹھا اور اس نے اپنی ذریت کو جمع کیا - 

عبادت گزاروں کو نماز سے دور رکھنے کی یہ اسکیم پاس کی کہ انہیں وقت پر نماز پڑھنے سے غافل رکھا جائے ، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اسے ہر طرف سے گھیرا جائے ، اور ہر طرف سے پکارا جائے ، ادھر دیکھ ، ادھر دیکھ ، اوپر دیکھ ، نیچے دیکھ یعنی اسے کسی نہ کسی کام کی طرف لگادیا جائے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا اور وقت پر نماز پڑھ لے تو اس کے نامہ اعمال میں چار صد نمازوں کا ثواب لکھا جائے گا -
پھر آگے لکھتے ہیں 

مسئلہ :۔ قیام رکوع اور سجود میں طوالت افضل ہے ، اگر ریاکاری سے بھی کام لے گا - تب بھی وہ ثواب سے محروم نہیں ہوگا البتہ طوالت کا تو اسے ثواب نہیں ملے گا لیکن فرض ادا ہوجائے گا ، بعض نے کہا ریاکاری سے نماز باطل ہوگی :- -( زینۃ المحافل ترجمہ نزھۃ المجالس ج 1 ص 510 ) 

طویل قیام ؛ پل صراط پر امان کا باعث ، طویل سجدہ: عذاب قبر سے نجات کا ذریعہ اور جنت میں ہمیشگی کا سبب ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا وسیلہ بھی ( اور سکرات موت میں آسانی کا سبب بھی بقول بعض) اور جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ہمارے آقا ماویٰ ملجیٰ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی






سبق


 نماز کو خشوع اور خضوع کے ساتھ پڑھنے پر بے شمار فضیلت کتابوں میں ہے اس لیے نماز ہمیشہ خشوع اور خضوع کے ساتھ ہی ادا کرنا چاہیے 
ـــــــــــــــ
از 
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 


Thursday, 24 November 2022

کرامت غوث اعظم چالیس گھوڑوں کی سخاوت Karamate Ghause Aazam 40 Ghoron Ki Sakhawat

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

۔۔۔

کرامت غوث اعظم  

چالیس گھوڑوں کی سخاوت

  Karamate Ghause Aazam

 40 Ghoron Ki Sakhawat 


صاحب تفریح الخاطر نے ایک واقعہ درج کرتے ہوئے لکھا کہ اقصیٰ بلاد میں سے ایک شخص نے حضرت محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی تعریف سنی تواسے آپ کی زیارت کا شوق پیدا ہوا ۔ اسی شوق میں سفر کرکے بغداد آیا تو حضرت محبوب سبحانی کے گھوڑوں کے اصطبل کو جانے والے راستہ پر پڑگیا ۔ دیکھا کہ اس میں چالیس اعلیٰ قسم کے بے نظیر گھوڑے چاندی اور سونے کے کھونٹوں سے بندھے ہوئے ہیں جن کی جھولیں اور رسی ریشم کی تھیں دل ہی دل میں خیال کیا کہ اولیاء اللہ دنیا کے طالب نہیں ہوتے اور یہ سازو سامان جو میں نے دیکھا ہے بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں اور یہ دنیا کی طلب و محبت پر دلالت کرتا ہے ۔ آپ سے بدظن ہو کر تکیہ میں نہ ٹھہرا ۔ بلکہ ایک دوسرے آدمی کے مکان میں قیام کیا تو یہ ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہوگیا ۔ اطباء نے لاعلاج قرار دے دیا ۔ پھر ایک حکیم نے کہاکہ تب صحت یاب ہوگا جبکہ اسے فلاں نسل کے چالیس گھوڑوں کے جگر کھلائے جائیں ۔ لوگوں نے کہا اس نسل کے گھوڑے حضور غوث الاعظم کے سوا اور کہیں بھی دستیاب نہ ہوں گے ۔ لوگوں نے مل کر مشورہ کیا کہ حضور غوث الاعظم کی بارگاہ میں سوال کیا جائے ۔ وہ سید الاسخیاء ہیں معلوم ہوتاہے کہ آپ کی بارگاہ سے خالی ہاتھ نہ آئیں گے ۔ لوگوں نے جاکر سوال کیا کہ ہمیں ایسی نسل کے گھوڑے عنایت فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا ! انہیں ایک گھوڑا دے دیا جائے ۔ پھر دوسرے دن آکر سوال کیا تو آپ نے فرمایا انہیں چالیس کے چالیس گھوڑے روزانہ ایک ایک کرکے دے دینا ۔ پھر وہ روزانہ آپ سے سوال کرتے تو آپ ان کو ایک گھوڑا عنایت فرمادیتے پھر اللہ تعالیٰ نے جب مریض کو شفا عطا فرمائی تو آپ کے پاس شکریہ ادا کرنے کے لیے آئے ۔ آپ نے اس شخص سے فرمایا یہ گھوڑے جو تم نے دیکھے تھے میں نے تیرے ہی لیے خریدےتھے اس لیے کہ جب تو گھر سے نکلا اور محبت و شوق سے میری طرف آنے کا ارادہ کیا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ یہاں آکر تجھے ایسی بیماری لاحق ہوگی جس کی دوا اس نسل کے 40  گھوڑوں کے جگر کے علاوہ اور کوئی شے نہیں ہے تو میں نے تیرے لیے انہیں خرید لیا اور تو جب گھوڑوں کے اصطبل کے پاس سے گزرا اور ان کے کھونٹوں اور جلوں کو دیکھا تو بدظن ہوکر دوسرے مکان میں جاکر قیام کیا ۔ پھر جو کچھ تیرے مقدر میں تھا ہوا ۔ یہ سن کر اس شخص نے اپنے خیال سے توبہ کی اور معافی کا خواستگار ہوا اور آپ کا عقیدت مند بن گیا ۔ پھر آپ نے فرمایا گھوڑوں کی کھونٹیں اور جلیں حکیم صاحب کو دے دو ۔ حکیم پہلے نصرانی تھا یہ واقعہ سن آپ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کرلیا ۔

نیست در ہر دوجہاں ملجائے من جز درگہت 
الکرم  یا   باز اشہب   ،  الکرم یا محی الدین

ترجمہ

آپ کی درگاہ والا کے سوا میرے لیے دوجہاں میں کہیں جائے پناہ نہیں ہے یا باز اشہب اور یا محی الدین مجھ پر جود وکرم فرمائیے 

( کرامات غوث اعظم ص 117 / 118 واقعہ نمبر 122)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوش و خرد سنبھال تو قلب و جگر سنبھال
دربارِ اولیاء   میں   غلط   بات   مت  نکال
(طرب بہاری)
۔۔۔










از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Monday, 21 November 2022

Hikayat Hazrate Rabie rahmatullah alaih ki حکایت حضرت ربیع رحمہ اللہ کی

 بسم اللہ الرحمن الرحیم


Hikayat Hazrate Rabie rahmatullah alaih ki حکایت حضرت ربیع رحمہ اللہ کی 

...

  مفسر قرآن حضرت علامہ شیخ اسمٰعیل حقی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر( روح البیان ج 2 پ 4 ص 6/7 ) پر اس درج ذیل  آیت کے ضمن میں ایک حکایت نقل فرماتے ہیں   '' لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ  وَ  مَا  تُنْفِقُوْا  مِنْ  شَیْءٍ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  بِهٖ  عَلِیْمٌ(۹۲)  ''( ترجمہ : تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے  ) ۔ جو بڑاہی عجیب وغریب واقعہ ہے 

ملاحظہ ہو! ۔۔ 

حضرت ربیع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر  فالج گرا ۔ جب آپ کے دروازے پر سائل دستک دیتا تو آپ اپنی اہلیہ سے فرماتےکہ اسے گڑ دیجیے اس لیے کہ آپ کی محبوب غذا گڑ تھی ایک دفعہ بیماری نے طول پکڑا عرصہ تک آپ اس مرض میں مبتلا رہے  آپ کے جی میں مرغی کے گوشت کی خواہش پیدا ہوئی ۔ چالیس روز تک آپ اپنے نفس سے لڑتے رہے وہ مرغی کا گوشت مانگتا آپ اس کے خلاف کرتے ۔ ایک دن آپ نے اپنی  اہلیہ سے فرمایا کہ چالیس دن ہوگئے کہ میرا نفس مجھ سے مرغی کا گوشت مانگتا ہے لیکن میں بضد ہوں ۔ آخر یہ بھی نفس ہے  یہ میری ایک بھی نہیں مانتا اب کیا کیا جائے ۔ بی بی صاحبہ نے عرض کی اس میں کونسا حرج ہے جب آپ کے لیے مرغی کا گوشت کھانا حلال ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے حلال سے منہ موڑنا کون سی بہتری ہے آپ نے رضا کا اظہار کیا تو بی بی صاحبہ نے بازار سے مرغی منگواکر اسے بہترین طریقہ سے پکا کر حضرت ربیع کی خدمت میں پیش کی تو باہر سے سائل نے صدا لگائی کہ اے خدا تعالیٰ کے بندو! اس کے لیے کچھ دو حضرت ربیع نے فرمایا کہ میرا یہی دسترخوان اس فقیر کے حوالےکردو ۔ عرض کی گئی کہ آپ عرصہ سے بھوکے اور بیمار بھی ہیں ۔ اور اس میں آپ کی صحت وعافیت کی امید بھی ہے ہم اس فقیر کو اس دستر خوان کے کھانے کی قیمت پیش کردیتے ہیں اس سے وہ راضی بھی ہوجائے گا ۔ آپ نے فرمایا  اس کی قیمت لے آؤ ۔ بی بی صاحبہ نے دسترخوان کے کھانے کی قیمت لائیں ۔ آپ نے فرمایا اب یہ کھانا اور یہ رقم اس صدا لگانے والے گدا کو دے دو ۔ ناچار بی بی کو دینا پڑا ۔

سبق: سبحان اللہ یہ تھی اللہ والوں کی بلند شان  ؎ ۔
باحساں آسودہ کردن دے         بہ از الف رکعت بہر منزلے
ترجمہ : کسی دل کو احسان سے خوش کرنا ہر منزل پہ ہزار رکعت ادا کرنے سے بہتر ہے ۔
کسی دوسرے شاعر نے کہا ؎۔
دل بدست آور کہ حج اکبر است         از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است 
کعبہ بنیاد خلیل آزر است                 دل نظر گاہ جلیل اکبر است 
ترجمہ: دل خوش رکھ کہ یہی حج اکبر ہے کیونکہ ہزار کعبے سے ایک دل بہتر ہے کعبہ خلیل کی بنیاد ہے اور دل اللہ تعالیٰ کی نظر کرم کی جگہ ہے 

اسی لیے یہ نکتہ بھی یاد رکھیں 
کہ جب نیکی کو محبوب ترین شئے کے خرچ کیے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا تو پھر نیکی والے کو کیسے  حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ جب بندہ حظوظ نفسانیہ کو اپنا مقصد  سمجھے ۔ (نفسانی خواہشات ، حظوظ۔ مطلب لذتیں )

تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے؟ 

( روح البیان ج 2 پ 4 ص 6/7 مترجم )



از

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Saturday, 19 November 2022

Ek Shair aur auraten ایک شاعر اور عورتیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم 


 Ek Shair aur Purani auraten ایک شاعر اور پرانی عورتیں 

مولانا ابوالنور محمد بشیر صاحب علیہ الرحمہ اپنی کتاب'' عورتوں کی حکایات ''میں قدیم زمانے کی عورتوں کی دانائی کے بارے میں یوں توکئی واقعہ لکھے ہوئے ہیں ۔ پر میں ایک واقعہ (کتاب الاذکیاء کے حوالے سے لکھا ہوا) آپ کے سامنے پیش کر رہاہوں 

پہلے عربی کا یہ دونوں شعر پڑھ لیں 

قال له 
إن النساء شياطين ٌ خُلقن لنا
نعوذ بالله من شرّ الشياطينِ 
رد عليه 
ويحك 
إن النساء رياحينٌ خُلقن لنا

وكلنا يشتهي شمَّ الرياحينِ

حکایت

عورتیں

عتبی نے ذکر کیا ۔کہ ایک شاعر کا عورتوں پر گزر ہوا اور اس کو ان کی کچھ عجیب سی شان معلوم ہوئی تو اس نے کہنا شروع کردیا ۔ کہ  ؎ ۔۔۔

إن النساء شياطين ٌ خُلقن لنا

نعوذ بالله من شرّ الشياطينِ

یعنی عورتیں ہمارے لیے شیطان پیدا کی گئی ہیں ۔ ہم شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔  ان عورتوں میں سے ایک نے اس کو جواب دیا  کہ ؎ ۔۔۔

إن النساء رياحين خُلقن لکم

وكلکم تشتھوا شمَّ الرياحينِ

یعنی عورتیں تمہارے لیے گلدستہ پیدا کی گئی ہیں اور تم سب ہی پھولوں کے سونگھنے کی خواہش رکھتے ہو ۔
(کتاب الاذکیاء لامام ابن جوزی ص 435) 

سبق

عورتیں مرد کے لیے واقعی گلدستہ ہیں ۔ بشرطیکہ ان میں حیاء ہو ۔ بوئے وفا ہو ۔ اور اگر ان میں یہ رنگ وبو نہیں ۔ اور وہ گلدان میں نظر نہ آئیں تو پھر وہ واقعی بقول عتبی شیطان ہیں اور ایسی مادر پدر آزاد ۔ اور عریاں و بے حجاب عورتوں سے ہم  اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ؎۔۔۔
شرم سے محروم جس عورت کی ہوجائے نگاہ 
اس کے شر سے مانگیے گا  اپنے اللہ سے پناہ 
( عورتوں کی حکایات ص 269/270)





۔۔۔۔۔۔۔۔


از 
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 





Wednesday, 16 November 2022

صحابہ کرام اور حضرت جابر کی خادمہ Sahab e Kiram Aur Hazrat e Jabir Ki Khadima

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 حضرات صحابہ کرام اور حضرت جابر کی خادمہ Sahab e Kiram  Aur Hazrat e Jabir Ki Khadima رضی اللہ تعالیٰ عنہم 


مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ اپنی کتاب " تفسیر نعیمی '' میں ایک واقعہ مثنوی شریف سے نقل کرتے ہیں جسے پڑھ کر آپ کا دل بےحد خوش ہوگا اور آپ کو کافی لطف ومزہ بھی آئے گا

۔۔۔۔

حکایت 

مثنوی شریف میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں صحابہ کرام کی دعوت تھی ، مہمان بیٹھ گئے ، کپڑے کا دسترخوان بچھایا گیا جو میلا تھا ، آپ نے خادمہ سے حکم دیا کہ دستر خوان صاف کرلاؤ ، خادمہ نے اسے بھڑکتے  تندور میں ڈال دیا ، لوگ حیران ہوئے ،اور منتظر تھے کہ کپڑا جلے اور شعلے اٹھے ، مگر حاضرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی ، جب ان کی آنکھوں نے یہ دیکھا کہ دستر خوان سلامت نکال لیا ، میل جل گیاتھا ، مگر اس کے تار(دھاگے وغیرہ)  جلنا تو کیا گرم بھی نہ ہوئے تھے ، حیرت سے سوال کرنے لگے ؎ سب

قوم  گفتند  اے صحابی رسول 
چوں  نسوزید ومنقح گشت نیز 

اے صحابی رسول ! یہ کپڑا آگ میں جلا کیوں نہیں ؟ اور بجائے جلنے کے صاف کیسے ہوگیا ، آپ نے جواب دیا ۔ شعر 

گفت روزے مصطفیٰ دست ودہاں 
بس  بمالید  اندر ایں  دستار خواں
 
کہ ایک روز میرے یہاں حضور سید عالم ﷺ کی دعوت تھی ، یہی دستر خوان بچھایا گیا تھا ، سرکار نے اس سے اپنا ہاتھ اور منہ شریف پونچھ لیا تھا (صاف کرلیا تھا) ،  اس نور سے قرب کے باعث اس میں نار اثر نہیں کرتی مولانا فرماتے ہیں   ؎ کہ
 
اے  دلِ ترسندہ از  نارو عذاب 
باچنیں  دست و دہن کن انتساب 

اے دل اگر تجھے بھی دوزخ کی آگ کا خوف ہے تو ان ہاتھوں اورلبوں سے وابستہ ہوجا،  ایمان ایک بیش قیمت موتی ہے ، اس کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط قلعہ چاہیے اور سرکاری پہرہ ، شریعت محمدیہ مضبوط حفاظتی قلعہ ہے اور حضرات اولیائےعظام وعلماے کرام اس کا حفاظتی دستہ ۔۔۔ 

( تفسیر نعیمی ج 4 ص 101 )





۔۔۔۔۔


از 
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 


Tuesday, 15 November 2022

Taqwa Aur Ghaflat تقویٰ اور غفلت

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

Taqwa Aur Ghaflat تقویٰ اور غفلت 


مفتی احمد یار خان نعیمی اپنی تفسیر کے جلد 4 ص 107 پر اس آیت کے ضمن میں ایک حکایت لکھتے ہیں ملاحظہ ہو! " یُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِ  وَ  الْیَوْمِ  الْاٰخِرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  یُسَارِعُوْنَ  فِی  الْخَیْرٰتِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  مِنَ  الصّٰلِحِیْنَ(۱۱۴) '' 

حکایت 

امام ابوبکر کتانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک بہت حسین جوان دیکھا ، میں نے پوچھا تو کون ہے ؟ وہ بولا تقویٰ ، میں نے پوچھا کہاں رہتا ہے؟ اس نے کہا ! غمگین دلوں میں ، پھر ایک بد شکل عورت کو دیکھا میں نے پوچھا تو کون ہے ؟ وہ بولی! میں ہنسی و خوشی ہوں ۔ میں نے پوچھا تو کہاں رہتی ہے ؟ بولی ہر غافل دل میں ، (اس لیے )

تقویٰ اختیار کرو کہ یہ قبر کی وحشت  میں انیس ہے اور حشر میں ساتھی ۔ 

( تفسیر نعیمی ج 4 پارہ 4 ،سورہ اٰل عمران ،آیت 114،ص 107 )





۔۔۔۔۔


از

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Sunday, 13 November 2022

Malik Saleh aur Ek Durwesh ملک صالح اور ایک درویش

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

Malik Saleh aur Ek Durwesh ملک صالح اور ایک درویش 

حکایت 

ملک صالح بادشاہ شام کا معمول تھا کہ رات کو ایک غلام کے ساتھ مسجدوں ، مقبروں اور مزاروں میں جاتا اور ہرایک کا حال معلوم کرتا۔ ایک رات موسم سرما میں گشت کرتا ہوا  ایک مسجدمیں پہنچا ۔ دیکھا کہ ایک درویش برہنہ ہے ۔ اور سردی سے کانپ رہا ہے ۔ اور کہہ رہاہے کہ یا اللہ ! دنیا کے بادشاہ تیری عطا کی ہوئی نعمت کو نفس کی حرص و ہوا اور لذت میں برباد کردیتے ہیں ۔ محتاجوں ،ضعیفوں کی حالت سے بے خبر ہیں ۔اگر وہ قیامت کے دن بہشت میں گئے ۔ تو تیری عزت وجلال کی قسم ! میں وہاں قدم نہ رکھوں گا ۔

    ملک صالح یہ بات سن کر آگے بڑھا اور دیناروں بھری تھیلی آگے رکھ دی ۔ اور روتے ہوئے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ درویش بہشت کے بادشاہ ہوں گے ۔آج ہم بادشاہ ہیں اور صلح کے لیے تمہارے پاس آئے ہیں ۔ کیونکہ کل تم بادشاہ ہوگے ۔ از راہ کرم اس دن ہم سے دشمنی نہ کرنا ۔ بلکہ عنایت ومہربانی سے پیش آنا ۔ میں ان بادشاہوں میں سے نہیں ہوں ۔ جو غریبوں سے منھ پھیرلیتے ہیں ۔

(تعلیم الاخلاق ص 506)

سبق 

بڑے بڑے لوگوں کو محتاجوں اور غریبوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔ اور اپنی دولت سے غریب لوگوں کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا چاہیے ۔ جو لوگ دولت کے نشہ میں غرباء اور محتاجوں کا خیال نہیں رکھتے وہ بہت بڑے غافل اور ناعاقبت اندیش ہیں ۔

( سچی حکایات ج 4 ص 592)




۔۔۔۔۔۔۔

از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 


Saturday, 12 November 2022

ایک لڑکے کی دانائی ek ladke Ki Danai

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

ایک لڑکے کی دانائی ek ladke Ki Dana'i 

حکایت 

معن بن زائدہ ایک امیر شخص اور مہمان نوازی میں بڑا مشہور تھا ۔ اس کے پاس اس کی دشمن قوم کے کئی ہزار افراد اسیر کرکے لائے گئے ۔ اس نے حکم دیا کہ سب کو قتل کردو ۔ اس قوم میں سے ایک لڑکا کھڑا ہوا ۔ اور کہا ۔ اے امیر! میں پیاسا ہوں  مجھے قتل تو ہوہی جانا ہے ۔ مگر مجھے پہلے پانی تو پلادو ۔ معن نے حکم دیا کہ اسے پانی پلادیا جائے ۔ اس نے پیالہ ہاتھ میں لیا ۔ اور کہا ۔ کہ اے امیر ! میرے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے اور مروت کا مقام نہیں ۔ کہ میں تو پانی پی لوں ۔ اور میری قوم پیاسی مرے ۔ آپ کی دریا دلی سے توقع ہے کہ ان کو بھی پانی پلانے کا حکم دیجیے ۔ چنانچہ سب کو پانی پلادیا گیا ۔ اب لڑکا پھر بولا کہ اے امیر! اب تو ہم سب تیرے مہمان ہوگئے ہیں ۔ اور مہمانوں کو مارنا کریموں کی شان نہیں بلکہ ان کی عزت کرنے کا حکم ہے معن لڑکے کی فصاحت و دانائی پر متعجب ہوا ۔ اور سب کو رہا کردیا ۔

( تعلیم الاخلاق ص 508)

سبق 

عقل وفصاحت اور موقعہ ومحل کے مطابق گفتگو کرنے سے بڑے بڑے فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ اور خدا ترس افراد ہمیشہ لطف وکرم سے کام لیتے ہیں ۔ 


( سچی حکایات ج 4 ص 593) 


از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 


شاہی فرمان Shahi Farman

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

شاہی فرمان Shahi Farman 

۔۔

حکایت

خلیفہ ہارون رشید کے بیٹے مامون کے عہد میں ایک مجرم شہر سے بھاگ گیا ۔ خلیفہ نے اس کے بھائی کو پکڑ کر منگایا اور کہا کہ اپنے بھائی کو حاضر کرو ۔ ورنہ تمہیں قتل کردیا جائے گا ۔ اس نے عرض کیا کہ اے خلیفہ ! اگر تمہارا کوئی ماتحت حاکم کسی کو قتل کرنا چاہے اور تو حکم دے کہ اسے چھوڑ دو ۔ تو وہ چھوڑے گا یا نہیں ؟ مامون رشید نے کہا ہاں چھوڑ دے گا ۔ تو میں تمہارے سامنے اس بڑے بادشاہ کا حکم پیش کرتا ہوں ۔ جس کی عنایت سے تو حاکم بنا ہے ۔ کہ تو مجھے رہا کردے ۔ مامون نے کہا ۔ وہ حکم مجھے سناؤ ۔ کہا وہ اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ  '' لا تزروازرۃ  وزر اخریٰ '' یعنی'' کسی کو دوسرے کے گنہ کے بدلے نہ پکڑو '' ۔

مامون یہ سن کر بڑا متاثر ہوا ۔ اور روتے ہوئے حکم دیا کہ اسے چھوڑ دو ؟ اس نے محکم اور اٹک حکم پیش کردیا ہے 

(تعلیم الاخلاق  ص 483)

سبق 

بڑے سے بڑا حاکم بھی ہوتو اسے قرآن پاک کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کردینا چاہئے اور یہ کہ بے گناہوں کو کبھی پکڑنا اور ستانا نہیں چاہیے ۔

( سچی حکایات ج 4 ص 591) 



از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 


Saturday, 5 November 2022

قوی اور ضعیف Qawi aur Zaeef

بسم اللہ الرحمن الرحیم 


 قوی اور ضعیف  Qawi aur Zaeef 

حکایت

" الا الذین تابوا من بعد ذٰلک  واصلحوا  فان اللہ غفور رحیم "

حضرت علامہ شیخ  اسمٰعیل حقی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر روح البیان ج 2 میں اور مفتی احمد یارخان نعیمی علیہ الرحمہ اپنی کتاب تفسیر نعیمی ج 3 میں (مذکورہ آیت کے ضمن میں) ایک حکایت نقل کرتے ہیں ملاحظہ ہو ! ۔

  

سری سقطی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن کہا ۔ تعجب ہے اس ضعیف پر جو قوی کی مخالفت کرے  ۔ دوسرے دن جب میں نماز فجر سے فارغ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خوبصورت مالدار نوجوان اپنے غلاموں کے ساتھ گھوڑے پر سوار مسجد میں آیا اور پوچھا تم میں سری سقطی کون ہیں ۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا وہ میرے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا ۔ کل تم نے کہاتھا کہ اس کمزور پہ تعجب ہے جو قوی کی مخالفت کرے اس کا مطلب کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ انسان (ابن آدم ) بہت کمزور ہے اور رب تعالیٰ  قوی ۔ مگر اس کمزوری کے باوجود وہ رب تعالیٰ کی مخالفت کی ہمت کرتا ہے ۔ جوان بہت رویا اور بولا کہ کیا پروردگار مجھ جیسے ڈوبے ہوئے کی بھی دستگیری کرےگا (مجھ جیسے غریق الؑصیان کی توبہ بھی قبول فرمائے گا جب کہ میرا بال بال گناہوں میں غرق ہے ) میں نے کہا اے فرزند !رب تعالیٰ کے سوا ڈوبتوں کو نکالنے والا کون ہے ۔ وہ بولا اے سری سقطی مجھ پر لوگوں کے حقوق بہت ہیں ۔ ان سے چھٹکاراکیسے پاؤں ۔ میں نے کہا اگر تو رب تعالی کو راضی کرلے تو خدا تیرے حق والوں کو تجھ سے راضی کردے گا ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ قیامت کے دن بعض اولیاءاللہ پر اہل حقوق دعوی کریں گے فرشتے ان سے کہیں گے کہ اس اللہ کے بندے کو مت پریشان کرو تمہارے حقوق اللہ کے ذمہ کرم پر ہیں ۔ جاؤ اس سے وصول کرو ۔ جنانچہ رب تعالیٰ ان سب کو بلند درجے دے کر ولی کے حقوق معاف کرادے گا ۔ یہ سن کر جوان بہت خوش ہوا اور بولا اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے ؟ میں نے کہا متوسطین کا راستہ ،( میانہ رو لوگوں کا راستہ ) روزے ، نماز اور گناہوں سے بچنا ہے اور اولیاء اللہ کا راستہ دنیوی تعلقات کا توڑنا اور رب تعالیٰ سے علاقہ عبدیت جوڑنا ہے ۔ سالک پر لازم ہے کہ تمام گناہوں سے توبہ کرے اور اپنے دل کو مشاہدہ رب کے سوا کسی اور چیز میں مشغول نہ کرے نیستی کے دوزخ پر گذرکر ہستی کے جنت تک پہنچ سکتےہیں ؎۔۔۔۔

بہشت تن  آسانی آنگاہ خوری             کہ   بر دوزخ  نیستی  بگذری 

۔۔۔۔۔۔۔

 ( روح البیان پ 3 ج 2 ص 310/311)مترجم 



اس کے بعد فرماتے ہیں 

جب یہ باریک صراط طے کروگے تب بارگاہ قادر۔ بے چون تک پہنچوگے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ دنیا میں ایسے رہو  جیسے مسافر یا راستہ گزرنے والا اور اپنے آپ کو قبروالوں میں سے شمار کرو ، صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بدن روح کے لیے ایسا ہے ۔ جیسے میت قبر میں پہنچ کر اپنے کو بالکل مولیٰ کے سپرد کردیتی ہے رب تعالیٰ کے سوا کسی کی طرف توجہ نہیں کرتی ۔ مال، اولاد ، گھر بار، سب سے منہ موڑ کر چل دیتی ہے ۔ ایسے ہی بندہ کو لائق ہے کہ بدنی وقلبی آفتوں ، جسمانی وروحانی بلاؤں اور دنیوی جھگڑوں سے دور رہے اور بارگاہ یار کا طواف کرے تھوڑے گناہ کو بہت سمجھے ۔ سیلاب کی ابتدا قطرے سے ہے اور گناہوں کی ابتدا خطرے سے ہے ۔ اس قطرہ اور اس خطرہ سے بچو جیسے سیلاب روکنے کے لیے مضبوط دیوار بناتے ہو ۔ ایسے ہی گناہوں کا سیلاب روکنے کے لیے اپنے قلب کے آس پاس توبہ کی دیوار  قائم کرو ۔ دنیا کو آخرت کا وسیلہ بناؤ اور رب کو رب سے ہی مانگو  

ہمیشہ توبہ کرتے رہو ۔ توبہ گناہ کی توڑ ہے ۔ جیسے اینٹ توڑنے کے لیے بسولی ہے حق تعالیٰ اس قال کو  حال بنادے یہ چیزیں ہمارے لیے مشکل ہیں مگر وماذلک علی اللہ بعزیز ۔ 

(تفسیر نعیمی ج 3 ص 582/ 583 ) 





۔۔۔۔۔

  از

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Wednesday, 2 November 2022

شیطان کا افسوس Shaitan Ka Afsos

بسم اللہ الرحمن الرحیم 


 شیطان کا افسوس Shaitan Ka Afsos 

حکایت 

ایک مرتبہ ایک اللہ کے مقبول نے شیطان کو دیکھا ۔ اور اس سے پوچھا کہ اے ابلیس !کیا کبھی تونے مجھ پر بھی اپنا داؤ چلایا ؟ شیطان نے کہا۔ کہ ہاں ایک مرتبہ آپ نے خوب پیٹ بھر کر کھاناکھایا ۔ اور آپ پر اس روز نیند کا کچھ ایسا غلبہ ہوا کہ آپ رات کا وظیفہ پڑھے بغیر سوگئے تھے ۔ وہ بزرگ فرمانے لگے ۔ خدا کی قسم آئندہ میں کبھی خوب سیر شکم ہو کر کھانا نہ کھاؤں گا ۔ شیطان بولا میں نے اپنا راز بتادیا ۔ مجھے بھی خدا کی قسم ! آئندہ میں بھی کبھی آپ جیسے بزرگ کو نصیحت نہ کروں گا ۔

( روض الریاحین ص 117)
 سبق 

اللہ کے مقبول بندوں پر شیطان کو غلبہ حاصل نہیں ہوتا ۔ اور مقبولان حق ہر ایسی بات سے جو غفلت میں ڈال دینے والی اور شیطان کو خوش کرنے والی ہو  بچتے ہیں ۔ اسی لیے ہمیں حکم ہے کہ  '' کونوا مع الصادقین '' یعنی سچوں کے ساتھ ہوجاؤ '' ۔ تاکہ ان پاک لوگوں کی رفاقت و معیت کے صدقہ میں ہم بھی شیطان سے بچ جائیں ۔

(سچی حکایات ح 4 ص 647)



از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 


قبرستان Qabristan

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 قبرستان Qabristan 

حکایت 

حضرت علی بن المغیرہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ دن رات قبرستان میں رہا کرتے تھے ۔ حضرت خلف بن سالم علیہ الرحمہ نے ایک بار ان سے پوچھا کہا آپ کہاں رہتے ہیں ؟ تو فرمایا ۔ وہاں جہاں امیر،غریب کا امتیاز نہیں ۔ اور جہاں سب برابر ہیں ۔ پوچھا کہ وہ کونسی جگہ ہے ؟فرمایا ۔ قبرستان ۔ پوچھا کیا آپ کو وہاں رات کی تاریکی میں ڈر نہیں لگتا ؟ فرمایا ۔ جب رات پڑتی ہے تو میں اس وقت قبر کی تاریکی یاد کرلیتا ہوں ۔ پھر مجھے رات کی تاریکی نہیں ڈراتی ۔ پوچھا ۔ قبرستان کےہولناک منظر کا آپ کے دل پر اثر نہیں پڑتا ؟ فرمایا ۔ میں قیامت کے دن کا ہولناک منظر یاد کرلیتا ہوں ۔ تو قبرستان کا منظر مجھے نہیں ڈرا سکتا ۔

(روض الریاحین  ص 113)

سبق 

انسان کو ہروقت قبر کا عالم اور قیامت کا دن یاد رکھنا چاہیے ۔ اس لیے کہ ایک دن مرنا ہے اور قیامت کے روز اللہ کے روبرو پیش ہونا ہے ۔


(سچی حکایات ح 4 ص 647)




۔۔۔۔۔۔

از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 


امام اعظم ابوحنیفہ اور ناخن بھر مٹی Imam Azam Aur Nakhun Bhar Mitti

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  ۔۔۔۔۔۔ امام اعظم ابوحنیفہ اور ناخن بھر مٹی Imam Azam Aur Nakhun Bhar Mitti  حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اک ب...