Followers

Monday, 31 October 2022

نادان کی خاموشی Nadan ki Khamushi

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

نادان کی خاموشی Nadan ki Khamushi 

حکایت 


امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی مجلس میں ایک شخص بیٹھا کرتا تھا ۔ جو ہمیشہ خاموش رہ کر گفتگو سنا کرتا تھا ۔ اور خود کبھی نہ بولتا تھا ۔ ایک بار حضرت امام ابو یوسف نے اس سے فرمایا کہ میاں تم ہمیشہ چپ ہی رہتے ہو ۔ کبھی تم بھی بولا کرو، تو اس نے کہا اچھا حضور ! ایک مسئلہ بتاییے کہ روزہ دار افطار کس وقت کرے ؟ امام ابو یوسف نے فرمایا جب سورج ڈوب جائے ۔ تو وہ بولا ، کہ اگر سورج آدھی رات تک بھی نہ ڈوبے تو کیا کرے ۔ حضرت امام ہنس پڑے اور فرمایا کہ تمہارا چپ رہنا ہی بہتر ہے ۔

( حیوٰۃ الحیوان ص 119 ج 1 قدیم )

سبق 

نادان کی چپ ہی بھلی ہوتی ہے اور نادان جب بولتا ہے تو طوفان ہی تولتا ہے ۔

( سچی حکایات ح 3 ص 512 )



از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Dana Ki Khamushi دانا کی خاموشی

بسم اللہ الرحمن الرحیم 


 Dana Ki Khamushi دانا کی خاموشی 

حکایت 


حضرت شعبی کی مجلس میں ایک شخص بیٹھا کرتا تھا جو ہمیشہ خاموش رہ کر گفتگو سنا کرتاتھا ۔ اور خود کبھی نہ بولتا تھا ۔ ایک بار حضرت شعبی نے اس سے فرمایا کہ میاں تم ہمیشہ چپ  ہی رہتے ہو ۔ کبھی تم بھی بولا کرو ، تو اس نے کہا میں چپ رہتاہوں ۔ سلامت رہتا ہوں ۔اور سنتا ہوں جان لیتا ہوں ۔ کان میں تو اپنا حصہ ہے ۔ اور زبان میں دوسرے کا 

( حیوٰۃ الحیوان ، ص 119 ج 1قدیم ) 

سبق 

فضول باتیں اور یا وہ گوئی امن وسلامتی کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں ۔ اس لیے فضول باتوں اور یاوہ گوئی سے بچنا چاہیے ۔ شاعر نے کہا 

بے بصر ہیں وہ جو بحثوں میں یہاں خورسند ہیں 

جن  کی  آنکھیں  کھل گئیں  ان کی  زبانیں بند ہیں 



( سچی حکایات ح 3 ص 512)

۔۔۔۔۔۔

از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 



Sunday, 30 October 2022

ماں کے قدم Maa Ke Qadam

 ماں کے قدم Maa Ke Qadam

حکایت

ایک روز ایک شخص نے حضرت ابو اسحٰق سے ذکر کیا کہ رات کو خواب میں ، میں نے آپ کی داڑھی یا قوت وجواہر سے مرصع دیکھی ہے ۔ ابو اسحٰق فرمانے لگے ۔ تونے سچ کہا رات میں نے اپنی ماں کے قدم چومے تھے ۔ یہ اس کی برکت ہے اور پھر ایک حدیث سنائی کہ حضورﷺ فرماتے ہیں ۔ خدا تعالی نے لوح محفوظ پر یہ لکھا دیا ہے کہ ۔

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انی انا اللہ لا الہ الا انا من رضی عنہ والداہ فانا عنہ راض ۔ 

( نزہۃ المجالس باب برالوالدین ص 168 ج 1 )

(1زینۃ المحافل ترجمہ نزہۃ المجالس ص 636 ج) 



یعنی میں خدا ہوں میرے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں جس شخص کے والدین اس پر راضی ہوں گے ۔ میں بھی اس سے راضی ہوں ۔

سبق 

حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ آخر زمانہ میں عق امہ واطاع زوجتہ (مشکوۃ شریف) آدمی ماں کا نافرمان اور بیوی کا تابعدار بن جائے گا ۔ اس قسم کے لوگوں سے ماں کے قدم چومنے کی توقع عبث ہے ۔ ہاں ایسے لوگ بیویوں کے قدم ضرور چومتے ہیں ۔ ماں کے قدم چومنے کی برکت سے حضرت ابو اسحٰق کی داڑھی یا قوت و جواہر سے مرصع ہوگئی اور آج کل ماں کے قدموں سے دور رہنے کی بدولت داڑھی ہی غائب ہوگئی ۔ وہ ایک بزرگ انساں کی نیک ماں کے قدموں کی برکت تھی کہ داڑھی کے بالوں سے یاقوت و جواہر جڑ گئے اور یہ ماڈرن شوہر کی ماڈرن بیوی کے قدموں کی نحوست ہے کہ داڑھی کے بال بھی اڑ گئے ۔ میں نے ماڈرن مثنوی میں لکھا ہے کہ۔

؎

مرد   ہوکر  مرد  کا  چہرہ  نہیں 

کیونکہ رخ پہ ریش کا سہرہ نہیں 

۔۔۔۔۔۔

(عورتوں کی حکایات ص 215/216)





از

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 



Saturday, 29 October 2022

ماں کی دعا کا اثر Maa ki Dua ka asar

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 


ماں کی دعا کا اثر Maa ki Dua ka asar 

 سلیم ابن ایوب فرماتے ہیں ۔ میں دس برس کا تھا ۔ اور مجھ سے سورہ فاتحہ تک نہیں پڑھی جاتی تھی ، تو بعض مشائخ نے مجھ سے فرمایا کہ تو اپنی ماں سے التجا کر کہ وہ تیرے لیے قرآن اور علم کے لیے دعا کرے ، میں نے اپنے علم کے لیے دعا کرائی ،ابن سبکی فرماتے ہیں ، ماں کی دعا کا اثر ایسا ہوا کہ حضرت سلیم ابن ایوب ایسے جید عالم ہوئے کہ کوئی عالم ان کا لگا نہ کھاتا تھا ،اور وہ گویا ایسے سوار تھے کہ کوئی ان کی گرد نہ پاتا اور نشان قدم تک نہ پہنچ سکتا تھا 


(نزہۃ المجالس باب برالوالدین ص 166 ج 1)

سبق


ماں کا بہت بڑا درجہ ہے ،ماں کی دعا اپنے بچوں کے لیے دل سے نکلتی ہے ،اسی لیے بقول ع
" دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے "
ماں کی دعا مقبول ہوتی ہے سورہ فاتحہ تک نہ پڑھ سکنے والا ماں کی دعا سے جلیل القدر اور بے نظیر عالم بن گیا لیکن یہ ماں پہلے زمانہ کی ماں تھی اور آج کل کی ماڈرن مائیں تو دعائیں مانگتی ہیں کہ میرا منا بڑا ہوکر کوئی بڑا افسر بنے ، ڈی ۔ سی بنے ، تھانیدار بنے اور انگریز نظر آئے ۔ انگریزی بولے ۔ گویا میرا یہ پھول بڑا ہوکر مجھے فول سمجھے ۔ مسلمان ماں اور ماڈرن ماں کا فرق ملاحظہ فرماییے  ؎

وہ ماں تھی گھر کی دیواروں کی رونق 
یہ  ماں   بنتی  ہے  بازاروں  کی رونق 
وہ   ماں  تو   پیدا   کرتی   تھی  نمازی 
دھنی   تلوار    کا     میدان    کا  غازی 
یہ  ماں  جس  کو   کہا   جاتا  ہے  لیڈی
یہ  ماں  گر   پیدا   کرتی ہے   تو  ٹیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(عورتوں کی حکایات ص214/ 215)




از 
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Thursday, 27 October 2022

با حیا عورت Ba Haya Aurat

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 با حیا عورت Ba Haya Aurat 

حکایت 

حضور ﷺ کے زمانہ میں ایک جاہل عورت بڑی بد زبان تھی مردوں سے جھگڑتی  رہتی اور بہت بے حیائی کی باتیں کیا کرتی تھی ، ایک روز وہ حضور ﷺ کے پاس سے گذری جبکہ حضور ﷺ کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! مجھے بھی اپنے کھانے  سے کچھ عطا فرماییے تاکہ میں آپ کا تبرک کھاؤں ۔ لیکن یا رسول اللہ آپ کے کھانے کا جو لقمہ آپ کے منہ میں ہو ، وہ مجھے دیجیے ۔ چنانچہ حضور ﷺنے  اپنے منہ سے لقمہ نکال کر اسے دیا جسے وہ کھائی ۔ جس کا اثر یہ ہواکہ  اس عورت میں اتنی شرم وحیا پیدا ہوگئی کہ مرتے دم تک پھر اسے کسی سے لڑتے جھگڑتے  یا بد زبانی کرتے نہیں دیکھا گیا ۔

( حجۃ اللہ علی العالمین ص 436) 

سبق 

یہ حضور ﷺ کے لعاب دہن شریف کی برکت ہے آپ کے لعاب آمیز لقمہ کھانے سے بے حیا عورت باحیا عورت بن گئی ، اور اس کی ساری جہالت و بد زبانی  دور ہوگئی ۔ ایک آج کل کے بعض منحوس لوگ ایسے بھی ہیں کہ نو مولود بچے کو صرف اپنی انگلی سے شہد کی گھٹی بھی دیں تو وہ بچہ بڑا ہوکر بد زبان اور بے حیا بن جا تا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہو اکہ حضور ﷺ سراپا نفاست و طہارت تھے ۔ حضور کے خدام آپ کے منہ مبارک کی چیز کو انتہائی شوق سے کھالیتے تھے ۔ آج کل کا کوئی بڑے سے بڑا صاف ستھرا شخص بھی کیوں نہ ہو ۔ اس کے منہ کی چیز کھانے سے گھن آتی ہے ۔ 

 ؎

جس سے کھاری کنوئیں شیرہؑ جاں بنے

 اس  زلال حلاوت    پہ    لاکھوں  سلام 


(عورتوں کی حکایات ص 168/169) 





از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 



Tuesday, 25 October 2022

صبر ایک صاحب اور ایک رنڈی sabr 1 sahab aur 1 randi کا واقعہ

صبر ایک صاحب اور ایک رنڈی sabr 1 sahab aur 1 randi 


ایک حکایت مفتی احمد یار خان نعیمی اپنی کتاب  رسائل نعیمیہ، باب درس قرآن ص442/443 پرعجیب وغریب  لکھتے ہیں ملاحظہ ہو 
 

حکایت 
ایک صاحب کسی رنڈی پر عاشق ہوگئے اس کی تنخواہ مقرر کردی ۔ روزانہ اسے اپنے پاس رہنے کا حکم دیا ۔کرتے یہ تھے کہ وہ سامنے بیٹھی رہتی تھی اور یہ اسے دیکھتے اور اپنا کام کرتے رہتے تھے ۔ اسی طرح عرصہ گذرگیا ۔ایک روز رنڈی بولی ۔ آپ اپنا پیسہ اور میرا وقت کیوں ضائع کرتے ہیں جبکہ مجھ سے کوئی کام نہیں لینا ہے ۔ تو مجھے اجازت دے دیجیے ۔ اس کے کہنے پر نفس نے بہت جوش مارا ۔اٹھے اور چراغ جلایا اور اس کی لو پر انگلی رکھ دی حتی کہ کھال گوشت سب جل گیا ۔پھر کہا تو جا اور اب مت آنا ۔ وہ بولی میں جاتی توہوں مگر مجھ کو یہ بتاو کہ تم مجھے کیوں بلاتے تھے اور اب کیوں بھیج رہے ہو ۔ اس نے کہا کہ مجھے عرصے سے اس نفس نے تیرے جال میں گرفتار کر رکھاتھا ۔ میں بہت جبرے اس کو روکے ہوئے تھا ۔ آج تیری اس گفتگو سے بہت ہیجان پیدا ہوا ۔ شہوانی خیالات بھڑک اٹھے تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے تو یہاں کی آگ کی تیزی دیکھ لے اگر اسے برداشت کرسکے تو دوزخ میں جانے کی ہمت کرنا ورنہ باز آ۔ جب انگلی کی چربی جل گئی تو نفس نے آواز دی کہ بس مجھ میں طاقت برداشت نہیں ۔ عذاب الٰہی سے وہ تمام جوش اور جذبے ختم ہوچکے ؎ اب تو جا اور کبھی نہ آنا ۔چونکہ یہ بات دل سے نکلی تھی اس لیے اس رنڈی کے دل پر ہی پڑی ۔ رونے لگی ۔ بولی میرا کیا بنے گا ۔ رب کو کیا منہ دکھاوں گی ، توبہ کی اور صالحہ بن گئی 
    صوفیا فرماتے ہیں کہ مشکل تو صبر سے آسان ہوتی ہے مگر صبر کرنا بھی تو ایک مشکل چیز ہے وہ کاہے سے آسان ہو؟ ۔ بخار کڑوی دوا سے جاتا ہے مگر وہ کڑوی دوا کیسے پیٹ میں جائے؟ ۔ فرماتے ہیں کہ صبر کو آسان کرنے والی تین چیزیں ہیں ۔ خوف ،شوق اور ذوق ۔یعنی عذاب الٰہی کا سچا خوف صبر کو آسان کردیتا ہے ۔ دیکھو  جیل اور حوالات کا خوف ہم کو صدہا تکالیف پر صابر بنادیتا ہے ۔تو رب کا خوف صابر کیوں نہ بنائے گا ۔یونہی حبیب کے حاصل کرنے کا شوق یہ بھی انسان کو صابر کردیتا ہے ۔ دیکھو ! بی اے ۔ایم اے کا طالب علم کہ جب اسے اعلی مرتبے پر پہنچنے کاشوق ہوتاہے تو بڑی بڑی پر صبر کرلیتا ہے ۔ لوگ راتیں سو کر گزار تے ہیں مگر یہ کتابوں کے مطالعہ میں جب بابو یا ڈپٹی بننے کا شوق انسان کو رات بھر جگا لیتا ہے تو جنتی بننے کا شوق کیا تہجد اور فجر کے واسطے نہ جگائے گا ؟
مگر ہاں شرط یہ ہے ۔کہ شوق فقط زبانی نہ ہو دل کا ہو ۔ جو شخص زبان سے کہتا پھرے کہ مجھے بی اے کرنا ہے اور محنت نہ کرے تو جھوٹا ہے ایسے ہی جو منہ سے کہے کہ مجھے جنت کا شوق ہے اعمال اس کے خلاف کرے وہ جھوٹا دعویدار ہے ؎
 
کام دوزخ کے کیے جنت کے ہیں امید وار 
قصر جنت  تو  بنا  ہر  پارسا کے واسطے 

 حیف تو سوتا رہے مسجد میں ہوتی ہو اذاں 
مرغ و ماہی سب اٹھیں  یاد خدا کے واسطے 

رہا ذوق یعنی عشق مصطفی ﷺ  اور ذوق دیدار الٰہی یہ تو سب سے اعلی درجے کی چیز ہے جو انسان سے بڑے بڑے کٹھن کام کرالیتی ہے جب عشق شیریں کاشوق فرہاد کے تیشے سے نہایت مضبوط پہاڑ توڑالیتا ہے ۔ تو کیا عشق الٰہی کا  ذوق امام حسین رضی اللہ عنہ سے سر نہیں کٹواسکتا ؟۔ گھر نہیں لٹواسکتا 
دوستو! شیریں والا پہاڑ نہ فرہاد نے کھودا نہ اس کے تیشے نے بلکہ اس کے عشق نے کھودا ۔ انسان کی ہرچیز کمزور ہے ۔ حتی کہ اس کی عقل بھی کمزور ۔ خود رب تعالی فرماتا ہے '' خلق الانسان ضعیفا " ۔  لیکن اگر نصیب ہوجائے  تو اس کا عشق بہت قوی ہے  جو فرشتوں سے نہ اٹھ سکا  نہ زمین و آسمان سے  رب تعالی فرماتا ہے   
 '' وحملھا الانسان انہ کان ظلوما جھولا" 
( رسائل نعیمیہ، باب درس قرآن ص442/443 ) 


۔۔۔۔۔۔
ااس لیے اے انسانو! اور اے مومنو! '' استعینوا بالصبر والصلوۃ '' پرعمل کرو 



از 
کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 
۔۔۔

Monday, 24 October 2022

شب بیدار لونڈی , shab bedar bandi

شب بیدار لونڈی , shab bedar bandi 

ایک  حکایت ابوالنور محمد بشیر صاحب اپنی کتاب ''عورتوں کی حکایات'' کے ص 205 پر لکھتے ہیں جو دل کو سرور اور قلب کو اطمینان بخشتی ہے آپ بھی اسے پڑھیں 

حضرت حسن بن صالح نے اپنی ایک لونڈی دوسرے کسی شخص کے ہاتھ فروخت کردی جب رات ہوئی اور ' گھر کے سارے افراد سوگئے ،تو لونڈی نے پکار پکار کر کہنا شروع کردیا ۔ الصلوۃ الصلوۃ  نماز نماز( کے لیے)  اٹھو اور نماز تہجد پڑھو مگر کسی کو خیال پیدا نہ ہوا ۔صبح ہوئی تو کہنے لگی ۔کیا آپ لوگ فرض نمازوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں پڑھتے یہ کہہ کر اس نے کہا مجھ پر کرم کرو  اور فسخ بیع کرکے مجھے حسن بن صالح ہی کے یہاں بھیج دو ۔چنانچہ اس نے لونڈی حسن بن صالح کو واپس کردی 

( نزہۃ المجالس باب فضل الصلوۃ ص 101 ج 1)

( زینۃ المحافل ترجمہ نزھۃ الجالس ج 1 ص521)



سبق 

پہلے زمانہ کی لونڈی بھی پانچ نمازوں کی پانبد اور ان کے علاوہ تہجد ونوافل بھی پڑھتی تھیں اور آج کل کی آزاد لیڈیاں بھی تہجد و نوافل تو کیا فرض نماز بھی نہیں پڑھتیں پہلی عروتوں کی راتیں یادِ رب میں گزرتی تھیں اور اب ماڈرن عورتوں کی راتیں کلب میں گزرتی ہیں ۔ انہیں رب کا  منانا پسند تھا ،انہیں ناچنا وگانا پسند ہے وہ نماز پڑھ کر روتی تھیں ۔ یہ سنیما دیکھ کر سوتی ہیں ۔ ان کی زبانوں پر رہتا ہے تو ذکرِ خدا ورسول اور ان کی زبانوں پر رہتا ہے تو ڈیم فول

 اس شب بیدار لونڈی پر ایسی ہزاروں بیکار لیڈیاں (لڑکیاں ) قربان ۔


بن گئیں  اللہ  کی جو لونڈیاں 

ان پہ قربان مغربی یہ لیڈیاں 


( عورتوں کی حکایات ص 205 )

۔۔۔

اور کسی نے کہا

چھوڑفلمی گانوں اور نغمات کو 

یاد   کر   قرآن    کی   آیات کو 

۔۔۔۔۔۔


از

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Sunday, 23 October 2022

تیس برس خلافت پھر بادشاہی 30 sal Khilafat phir badshahi

 تیس برس خلافت پھر بادشاہی 30 sal Khilafat phir badshahi

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد تیس برس تک خلافت رہے گی ۔ اس کے بعد بادشاہی ہوجائے گی اس حدیث کو سناکر حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ گن لو ۔ حضرت ابوبکر کی خلافت دو برس اور حضرت عمر کی خلافت دس برس اور حضرت عثمان کی خلافت بارہ برس اور حضرت علی کی خلافت چھ برس ۔ یہ کل تیس برس ہوگئے ۔

( مشکوۃ شریف ج 2 ص 462 کتاب الفتن )

( سیرت مصطفی ص 589)



کہاگیا ہے امام حسن رضی للہ عنہ کی خلافت (چھ مہینہ یہ )بھی اس میں شامل ہے 

از

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 


Fa'the Khaibar kaun Hoga ? فاتح خیبر کون ہوگا

 Fa'the Khaibar kaun hoga?فاتح خیبر کون ہوگا 

فاتح خیبر کون ہوگا ؟

جبگ خیبر کے دوران ایک دن غیب داں نبی ﷺ نے یہ فرمایا کہ کل میں اس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول  سے محبت کرتا ہے اور اللہ ورسول اس سے محبت کرتے ہیں اور اسی کے ہاتھ سے خیبر فتح ہوگا ۔ اس خوشخبری کو سن کرلشکر کے تمام مجاہدین نے اس انتظار میں نہایت ہی بے قراری کے ساتھ رات گزاری کہ دیکھیں کون وہ خوش نصیب ہے جس کے سر اس بشارت کا سہرا بندھتا ہے ۔صبح کو ہر مجاہد اس امید پر بارگاہ رسالت میں حاضرہوا کہ شاید وہی اس خوش نصیبی کا تاج دار بن جائے ہر شخص گوش بر آواز تھا کہ ناگہاں شہنشاہ مدینہ نے فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺان کی آنکھوں میں آشوب ہے ۔ ارشاد فرمایا کہ قاصد بھیج کر انہیں بلاو جب حضرت علی رضی اللہ عنہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور اقدس ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگاکردعا فرمادی جس سے فی الفور وہ اس طرح شفایاب ہوگئے کہ گویا انہیں کبھی آشوب چشم ہوا ہی نہیں تھا ۔ پھر آپ نے ان کے ہاتھ میں جھنڈا عطا فرمایا۔ اور خیبر کا میدان اسی دن ان کے ہاتھوں سے سر ہوگیا ۔ 

( بخاری شریف ج 2 ص 605 باب غزوہ خیبر ) 

سبحان اللہ 

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دن قبل ہی یہ بتادیا کہ کل حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ خیبر کو فتح کریں گے ۔

ماذا تکسب غدا ۔

یعنی " کل کون کیا کرےگا " ؟ کا علم غیب ہے جو اللہ تعالی نے اپنے رسول کو عطا فرمایا 

( سیرت مصطفی ص 589 ) 



از

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

۔۔۔۔۔


Saturday, 22 October 2022

کرامت خاتون جنت فاطمہ زہرا رضی الہ عنہا Karamate Fatima

 کرامت خاتون جنت فاطمہ زہرا رضی الہ عنہا Karamate Fatima

حکایت 

ابویعلی نے حضرت جابر سے روایت کی کہ ایک بار نبی ﷺ کے دولت خانہ میں کئی دن کھانا نہ پکا جب بھوک  کا غلبہ ہوا تو اپنی ازواج کے گھروں میں تشریف لے گئے مگر کسی کے پاس کچھ نہ پایا ۔پھر حضرت خاتون جنت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے عرض  کیا نہیں یا رسول اللہ وہاں سے واپس ہی ہوئے تھے کہ کسی ہمسایہ نے حضرت خاتون جنت کی خدمت میں دو روٹیاں اور کچھ گوشت بھیجا ۔ خاتون جنت نے سوچا کہ اگر چہ ہم سب حاجت مند ہیں مگر میں یہ کھانا حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گی اس خیال سے وہ کھانا ایک برتن میں رکھ دیا اور  حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو حضور کی خدمت میں بلانے کے لیے بھیجا ۔ حضور تشریف لائے حضرت خاتون جنت نے وہ کھانا پیش کیا ، کھولا تو برتن کھانے سے بھرا پایا ۔ آپ حیران رہ گئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا ۔ "انی لک ھذا" فاطمہ یہ کہاں سے آیا ؟ عرض کیا : "ھو من عند اللہ  ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب " ۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تبسم فرمایا اور فرمایا الحمدللہ فاطمہ مریم کے مثل ہے وہ غیبی کھانا پا کر یہی کہا کرتی تھیں  پھر وہ کھانا سب گھر والوں نے کھایا اور محلہ میں تقسیم کیا گیا ۔

روح البیان میں کچھ کمی ، بیشی کے ساتھ یہ واقعہ مذکور ہے 

( تفسیر روح البیان ج 2 پ 3 ص 224 و معانی ) 





بحوالہ ( تفسیر نعیمی ج 3پ 3ص 378/377)



از 

کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 

Friday, 21 October 2022

سلطان محمود غزنوی اور شیخ ابوالحسن خرقانی

    ﷽

سلطان محمود غزنوی اور شیخ ابوالحسن خرقانی اور کچھ باتیں 


حضرت سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ تعالی شیخ ربانی سیدنا ابوالحسن خرقانی قدس سرہ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے     تھوڑی دیر بیٹھ کر عرض کی حضرت فرماییے سیدنا شیخ بایزید بسطامی کیسے بزرگ ہیں ۔ انہوں نے فرمایا ، وہ ایسے بزرگ ہیں کہ جس نے ان کی زیارت کی تو وہ ہدایت پاگیا اور جنتی ہوگیا اور ایسی سعادت زہے نصیب ۔ سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ تعالی نے عرض کی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ابوجہل نے نبی پاک ﷺ کو رات دن  دیکھا لیکن بد بختی میں پھنسا رہا ۔اور جنتی نہ ہوا اور بایزید کا دیکھنے والا جنتی کیونکر ہوکستا ہے ؟۔ ۔ حضرت ابوالحسن خرقانی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ابوجہل نے محمد رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا بلکہ محمد بن عبداللہ (ﷺ) کو دیکھا اگر وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیتا تو وہ بد بختی سے نجات پالیتا اور جہنمی نہ رہتا اور اسے ابدی سعادت نصیب ہوتی ۔ چنانچہ اس کی دلیل یہ آیت ہے : 

   رب تعالی فرماتا ہے 

" وتراھم ینظرون الیک وھم لایبصرون " 

آنکھ سے دیکھنا نظر ہے اور دل سے دیکھنا بصیرت ۔۔۔  حضور ﷺ کو سر کی آنکھوں سے دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی اس سے سعادت نصیب ہوسکتی ہے ۔ یہ سعادت تو حضور ﷺ کو قلب اور سر( راز) سے دیکھنے سے نصیب ہوسکتی ہے اور آپ کی مکمل تابعداری سے  

( تفسیر روح البیان ج 2 پ 3 ص 211 مترجم ) ( از ابن عربی ) 



صوفیا فرماتے ہیں کہ دنیا میں دوزخ کے راستے صدہا ہیں ۔ جنت کی ایک ہی  ۔ پگ ڈنڈی سے پگ ڈنڈی ایسی مختصر ہوتی ہے کہ پیچھے والا آگے والے کے برابر ہوکر آگے نکل سکتا ہی نہیں ، بڑی کوشش کرتاہے کہ آگے والے کے نقش قدم پر قدم رکھے۔  راستہ کے غار خار آگے والا جانے یوں ہی ہمارا فرض کہ حضورﷺ کے نقش قدم پر قدم رکھنا ہے راستہ کے ذمہ دار حضور ﷺ ہیں اس لیے حکم ہوا " فاتبعونی " میری اتباع کرو ۔ برابر آکر آگے نکلنے کی کوشش نہ کرو ۔ ریل کے ڈبے انجن کے برابر آکر آگے نہیں نکل سکتے انہیں پیچھے ہی رہناہے  لہٰذا فاتبعونی ( تمہارے لیےاور جملہ انسانوں ) کے لیے بالکل درست ہے۔  

( تفسیر نعیمی  ج 3 پ 3 ص 359) 



۔۔۔۔۔۔۔

مفہوم و نقل  

۔۔

کلیم االدین مرکزی طرب بہاری 

Thursday, 20 October 2022

تین قرآن دان لونڈیاں

 تین لونڈیاں 

بھائیو! پرانے زمانے کی تو لونڈیاں بھی قرآن دان تھیں چنانچہ  مامون رشید کو ایک مرتبہ ایک لونڈی کی ضرورت پیش آئی تو اس نے اعلان کیا ۔ تو ا س کی خدمت میں تین لونڈیاں آئیں ۔اور تینوں سامنے کھڑی ہوگئیں ۔بادشاہ نے دیکھا تو کہا مجھے تو ایک درکار ہے ۔اور تم تین ہو ۔اچھا میں تم تینوں میں سے ایک کا انتخاب کرلیتاہوں ۔ تینوں لونڈیاں سامنے ایک صف میں کھڑی تھیں ۔ بادشاہ جب انتخاب کے لیے اٹھا ۔ تو پہلی بولی ۔

والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار 

پہلی نے جب یہ آیت پڑھی ۔ تو دوسری جو وسط میں کھڑی تھی بولی ۔

وکذٰلک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس ۔

تیسری جو سب سے آخری میں  کھڑی تھی ۔بولی ۔

وللاٰخرۃ خیرلک من الاولیٰ ۔

مامون رشید تینوں پر بڑا خوش ہوا ۔اور تینوں کو خرید لیا ۔(لولوءالشرع ص49)

دیکھا میرے بھائیو! اس کا نام ہے قابلیت ۔قرآن کو جاننا ہی دراصل علم وقابلیت ہے ۔ اور اگر قرآن (قرآن پڑھنا نہیں آتا ) کا کچھ پتہ ہی نہیں ۔ پھر کیا جو دنیوی باتوں کے عالم وماہر ہوگئے ۔ایسے افراد قابل کہلانے کے ہرگز قابل نہیں ۔

(خطبات ج 1 ص294/295)

ناقل 

محمد کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 




Wednesday, 19 October 2022

حکایت مقدار لذت

 حکایت :۔ 

چنانچہ ایک حکایت ہے ۔کہ ایک بادشاہ نے دیکھا ۔کہ ایک غریب آدمی جو بڑا صحت مند اور تندرست تھا ۔اور چہرہ اس کا سیب کی مانند سرخ تھا ۔بڑے مزے سے فرش زمین پر گہری نیند سو رہا ہے ۔بادشاہ نے اس کی قابل رشک صحت دیکھی ۔تو اسے جگا کر پوچھا ۔کہ تم کیا کھاتے ہو؟ اس مزدور نے جواب دیا ۔کہ میں ہر روز بھُنے ہوئے مرغ سے کھانا کھاتا ہوں ۔بادشاہ نے حیران ہوکر پوچھا ۔کہ ایک غریب آدمی ہوکر ہر روز بھنے ہوئے مرغ سے کھانا کیسے کھاتے ہو؟ تو  اس نے جواب دیا ۔کہ بات در اصل یہ ہے کہ مجھے  جب خوب بھوک لگتی ہے ۔تو میں اس وقت کھانا کھانے بیٹھتا ہوں اور شدت بھوک کی وجہ سے نمک مرچ بھی مجھے بھُنے ہوئے مرغ کا مزہ دے جاتے ہیں 

مگر جن لوگوں کا کام یہ ہے کہ ہر وقت کھاتے ہی رہیں ۔تو بار بار کے کھانے سے ان کی بھوک مرجاتی ہے ۔اور ان کے لیے مرغ مسلم میں بھی کوئی لذت باقی نہیں رہتی ۔بادشاہ نے کہا ۔بالکل ٹھیک ہے ۔واقعی ہم لوگ باوجود سب کچھ پانے کے ان کی لذتوں سے محروم ہیں ایسے ہی ایک محرومِ راحت امیر کی طرف سے یہ شعر کہا گیا ہے کہ ؎

دل  میں ہے   سرمایئہ  کونین  راحت   کے  سوا 

دونوں عالم ہیں مِرے قبضے میں قسمت کے سوا  

میرے بھائیو!  امراء کو دیکھ کر ہرگز کوئی رشک نہ کرنا ۔ اس لیے کہ اس طبقہ میں ؎

آہ تجھ سے کیا بتاوں کتنے سینے ہیں فگار 

زندگی میں دو گھڑی آرام پانے کے لیے 


(خطبات ج 1 ص 271) 

ناقل 

محمد کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 






Tuesday, 18 October 2022

چاند پر حکومت

 حکایت ۔ 

چاند پر حکومت 

حضورﷺ کے دشمنوں نے  بالخصوص ابوجہل نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے کہا کہ اگر تم خدا کے رسول ہو تو آسمان پر جو چاند ہے اس کے دو ٹکڑے کرکے دکھاو ۔ حضورﷺ نے فرمایا لو یہ بھی کرکے دکھادیتا ہوں  چنانچہ آپ نے چاند کی طرف اپنی انگلی مبارک سے اشارہ فرمایا تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ، یہ دیکھ کر ابوجہل حیران ہوگیا مگر بے ایمان مانا بھی نہیں اور حضور کو جادو گر ہی کہتا رہا ۔ 

(ھجۃ اللہ ص 396 اور بخاری شریف ص 271 جز 2)

سبق :۔ ہمارے حضور ﷺ کی حکومت چاند پر بھی جاری ہے اور باوجود اتنے بڑے اختیار کے بے ایمان افراد حضور ﷺ کے اختیار و تصرف کو پھر بھی نہیں مانتے ۔

(سچی حکایات ص 26 ح 1)

ناقل 

محمد کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 



Monday, 17 October 2022

جبریل امین اور ایک نورانی تارہ

  جبریل امیں علیہ السلام اور ایک نورانی تارہ


۔۔۔۔۔۔


    ایک مرتبہ حضورﷺ نے حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے دریافت فرمایا کہ اے جبرئیل تمہاری عمر
 کتنی ہے ؟ تو جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا حضور مجھے کچھ خبر نہیں ہاں اتنا جانتا ہوں کہ چوتھے حجاب میں ایک نورانی تارہ ستر ہزار برس کے بعد چمکتا تھا ، میں نے اسے بہتر ہزار مرتبہ چمکتے دیکھا ہے ، حضور علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا وعزۃ ربی انا ذلک الکوکب  میرے رب کی عزت کی قسم ! میں ہی وہ نورانی تارہ ہوں 

  (روح البیان ص 974 ج 1)

سبق

ہمارے حضورﷺ کائنات کی ہرچیز سے پہلے پیدا فرمائے گئے ہیں اور آپ کا نور پاک اس وقت بھی تھا جب کہ نہ کوئی فرشتہ تھا نہ کوئی بشر ، نہ زمین تھی نہ آسمان اور نہ کوئی شئ ۔ فﷺ۔ 

(سچی حکایات ص 13 ح 1 )


ناقل 

محمد کلیم الدین مرکزی طرب بہاری 






Sunday, 16 October 2022

حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کا ایک دہریہ سے مناظرہ

   وجود باری تعالی اور توحید کے بارے میں 
 حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ  کا ایک دہریہ سے مناظرہ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



 ہمارے امام حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کا ایک دہریہ ، خدا کے منکر سے    مناظرہ مقرر ہوا اور موضوع مناظرہ یہی مسئلہ تھا کہ عالم کا کوئی خالق ہے یانہیں ؟ اس اہم مسئلہ پر مناظرہ اورپھر اتنےبڑے امام سے چنانچہ میدان مناظرہ میں دوست دشمن سبھی جمع ہوگئے مگر حضرت امام اعظم وقتِ مقررہ سے بہت دیر کے بعد تشریف لائے ، دہریہ نے پوچھا آپ نے اتنی دیر کیوں لگائی ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر اس کا جواب یہ دوں کہ میں ایک جنگل کی طرف نکل گیا تھا وہاں ایک عجیب واقعہ نظر آیا جس کو دیکھ کر میں حیرت میں  آ کر وہیں کھڑا ہوگیا اوروہ واقعہ یہ تھا کہ دریا کے کنارے ایک درخت تھا ، دیکھتے ہی دیکھتے وہ درخت خود بخود کٹ کر زمیں پر گرپڑا پھر اس کے تختے تیار ہوئے پھر ان تختوں کی خود بخود ایک کشتی تیار ہوئی اور خود بخود ہی دریا میں چلی گئی اور پھر خودبخود ہی وہ دریا کے مسافروں کو اس طرف اور اس طرف کے مسافروں کو اس طرف لانے اور لے جانے لگی ، پھر ہرایک سواری سے خودہی کرایہ بھی وصول کرتی تھی ،

    تو بتاؤ تم میری اس بات پر یقین کرولوگے ؟

    دہریہ نے یہ سن کر ایک قہقہہ لگایا اور کہا ، آپ جیسا بزرگ اور امام ایسا جھوٹ بولے تو تعجب ہے، بھلا یہ کام کہیں خود بخود ہوسکتے ہیں ؟جب تک کہ کوئی کرنے والا نہ ہو کسی طرح نہیں ہوسکتے ۔ 

    حضرت امام اعظم نے فرمایا کہ یہ تو کچھ بھی کام نہیں ہیں تمہارے نزدیک تو اس سے بھی زیادہ بڑے بڑے عالیشان کام خود بخود بغیر کسی کرنے والے کے تیارہوتے ہیں ،یہ زمیں ،آسمان ،یہ چاند ،یہ سورج ،یہ ستارے ،یہ باغات ،یہ صدہا قسم کے رنگین پھول اور  شیریں پھل یہ پہاڑ ،یہ چوپائے ،یہ انسان،اور یہ ساری خدائی بغیر بنانے والے کے تیار ہوگئی ہے ، اگر ایک کشتی کا بغیر کسی بنانے والے کے خود بخود بن جانا جھوٹ ہے تو سارے جہان کا بغیر بنانے والے کے  بن جانا اس سے بھی زیادہ جھوٹ ہے ۔ 

دہریہ آپ کی تقریر سن کر دم دم بخود حیرت میں آگیا اور فورا اپنے عقیدہ سے تائب ہوکر مسلمان ہوگیا ۔ [تفسیر کبیر ص ۲۲۱] 

سبق

 اس کائنات کایقینا  ایک خالق ہے جس کا نام اللہ ہے اور وجود باری کا انکار عقل کے بھی خلاف ہے۔

(سچی حکایات ح ۱ص ۱۰۔۱۱)

ناقل

محمد کلیم الدین مرکزی طرب بہاری


 



امام اعظم ابوحنیفہ اور ناخن بھر مٹی Imam Azam Aur Nakhun Bhar Mitti

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  ۔۔۔۔۔۔ امام اعظم ابوحنیفہ اور ناخن بھر مٹی Imam Azam Aur Nakhun Bhar Mitti  حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اک ب...